کاش ایسا نہ ہوتا …

’’ سندھ حکومت کی فسطائیت یاد رہے گی۔ عوام کا راستہ روکا نہیں جاسکتا۔ ‘‘ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ تقریر باغ جناح کے باہر ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ کراچی پولیس نے 11 جنوری کو بغیر اعلان کے جو حکمت عملی اختیارکی تھی، اس کی بناء پر تحریک انصاف باغ جناح پر لوگوں کو جمع نہ کرسکی۔

مزارِ قائد کے اطراف کی سڑکوں کے بند ہونے اور ایم اے جناح روڈ پر جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے استعمال کرنے سے سندھ کی حکومت نے خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قانون کے مطابق پروٹوکول دینے، وزیر سعید غنی کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ پر استقبال اور سہیل آفریدی کو سندھ کی روایتی ٹوپی اور اجرک پہنانے سے جو ایک خوشگوار فضاء پیدا ہوئی تھی وہ 11 جنوری کو جب سورج کا سایہ مزارِ قائد سے رخصت ہو رہا تھا تو وہ فضا بھی مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کی روایت میں تبدیل ہوگئی۔ سہیل آفریدی حزب اختلاف کے اتحاد تحفظ آئینِ پاکستان کی اپیل پر 8 فروری کو عام ہڑتال کرنے کے لیے رائے عامہ ہموارکرنے کے لیے جب لاہور گئے تھے تو پنجاب کی حکومت نے دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو قانون کے مطابق پروٹوکول دینے سے انکار کرتے ہوئے سخت اقدامات کیے تھے۔

جب آفریدی پنجاب اسمبلی گئے تھے تو اسمبلی کے عملے نے ان کے ساتھ آنے والے بعض افراد کو لسٹ میں نام نہ ہونے کی بنا پر اسمبلی میں آنے سے روکا تھا ۔ پنجاب حکومت کی ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ سہیل آفریدی کے قافلے میں کئی سزا یافتہ مجرم بھی شامل تھے۔ ان میں 9 مئی کو سرکاری تنصیبات پر حملے کرنے والے افراد بھی شامل تھے۔ اس بناء پر پولیس کو ان افراد کو اسمبلی میں داخلے سے روکنے کیلیے خلافِ توقع اقدامات کرنے پڑے تھے۔

پاکستان میں سیاسی مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کی روایت بہت قدیم ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے استاد پروفیسر شمیم اختر (مرحوم) سیاسی تاریخ بیان کرتے ہوئے ضرور یہ قصہ سناتے تھے کہ سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کی روایت ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دوِرِ اقتدار سے شروع ہوگئی تھی۔ بنگال کے سابق پریمیئر حسین شہید سہروردی پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح کی ہدایت پر 14 اگست 1947ء کو نئے ملک کے قیام کے بعد کلکتہ میں رک گئے۔ حسین شہید سہروردی نے مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر بنگال میں ہونے والے ہندو مسلمان فسادات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

مہاتما گاندھی اور سہروردی کی مشترکہ کوششوں سے کلکتہ اور اطراف کے شہروں میں فسادات تھم گئے تھے مگر جب سہروردی پاکستان آئے تو ان کے لیے مسلم لیگ میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ پروفیسر شمیم اختر بتاتے تھے کہ سہروردی نے جناح مسلم لیگ بنائی تھی مگر وہ جب بھی کراچی میں جلسہ کرتے تو مسلم لیگ کے جنگجو جن کی قیادت اسلامیہ کالج کے بانی ایم ایم قریشی کرتے تھے، جلسہ گاہ پر پہنچ کر جلسہ کو الٹ دیتے تھے۔ پھر گورنر جنرل غلام محمد اور ان کے جانشین اسکندر مرزا نے مخالف سیاست دانوں کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کرنے اور جلسوں کی اجازت نہ دینے کی پالیسی تیار کی۔ ملک کے پہلے آمر جنرل ایوب خان نے جب 27 اکتوبر 1958ء کو اقتدار سنبھالا تو سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا تھا اور مخالف سیاستدانوں نے ایبڈو کے قانون کے تحت سیاست سے نااہل قرار دلانے کی پالیسی اختیار کی تھی اور پورے ملک میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

جب 1964ء میں بیرسٹر محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو پھر فاطمہ جناح کو ملک بھر کا دورہ کرنے اور جلسے جلوس کرنے کی اجازت دی گئی مگر جنگ ستمبر کے آغاز پر ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی اور ڈیفنس پاکستان رولز (D.P.R) کے تحت ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر ان پابندیوں کے باوجود 1968ء میں کراچی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) کے کارکنوں نے احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔ یہ تحریک کراچی کے لنڈی کوتل،کوئٹہ سے گوادر، ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک پھیل گئی تھی۔ ڈی پی آر کے نفاذ کے باوجود گاؤں گاؤں شہر شہر جلسے جلوسوں کی بناء پر ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

یحییٰ خان کی حکومت نے مارچ 1971 تک سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پرکوئی پابندی نہیں لگائی تھی مگر جب مارچ 1971ء میں مشرقی بنگال میں آپریشن شروع ہوا تو ملک بھر میں سیاسی جلسے جلوسوں پر پابندی لگادی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں اقتدار ملنے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دے دی تھی۔ اس زمانے میں روزانہ گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس پر مظاہرے ہوتے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے جلوسوں پر مستقل پابندی عائد کیے رکھی۔ ان پابندیوں کے دوران 1977ء کی انتخابی مہم شروع ہوئی۔ حزبِ اختلاف کے اتحاد پی این اے کو انتخابی مہم کے دوران بڑے تاریخی جلسوں کی اجازت دی گئی۔

جنرل ضیاء الحق نے 10 سال تک سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کیے رکھی۔ جب سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو زیرِ حراست رکھا گیا۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں، وکلاء، شعراء، صحافیوں، مزدورکارکنوں اور ہاری تحریک کے کارکنوں کو کوڑے مارے گئے مگر جب تمام مخالف جماعتیں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم پر متحد ہوئیں تو ملک میں سخت اقدامات کیے گئے۔ اس دور میں سیاسی رہنماؤں کو شہروں سے نکالنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ ایم آر ڈی میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت کو جیلوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ بعض رہنماؤں کو خفیہ سیف ہاؤسز میں رکھا گیا جہاں ان پر زبردست جسمانی تشدد ہوا۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (N.D.P) کے سربراہ شیر باز مزاری کو چاروں صوبوں سے نکال دیا گیا۔ اسی دوران1983ء میں آئین کی بحالی کی تحریک چلی۔ اس تحریک کے دوران ہزاروں سیاسی کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں۔

اخبارات پر سنسر عائد کیا گیا۔ لاہور کے صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ بیان میں سندھ میں آپریشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جو صحافی نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات میں کام کرتے تھے، انھیں برطرف کردیا گیا۔ جب محمد خان جونیجو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو سیاسی کارکن جیلوں سے رہا ہوئے اور تاریخ میں پہلی دفعہ جلسے جلوسوں پر عائد پابندیاں ختم کردی گئیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے دوران یہ شہری آزادیاں برقرار رہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد نہ ہوئیں۔ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کا خیر مقدم کرکے ایک اچھی روایت قائم کی تھی مگر پھر 11 جنوری کو تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے کے باوجود سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے غیر جمہوری رویہ اختیار کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کا فائدہ ہمیشہ حزبِ اختلاف کو ہوتا ہے۔ کاش! پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں ایسا نہ ہوتا۔

Similar Posts