ہمارا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے، وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نےکہا ہے کہ ہمارا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے، ملک میں ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے چار لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی ایک بھی ڈوز نہیں ملی۔

کراچی کے علاقے جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے اور ہم اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر یہ کام کرنے کی توفیق ملی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ کوئی عام سرکاری کام نہیں بلکہ وفاقی وزارت صحت اللہ کی مخلوق کی تکلیف کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، ہمارا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے اور کورونا وبا کے بعد ثابت ہوا کہ اگر ایک ساتھ اتنے لوگ بیمار ہوں تو طاقت ور ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں جن میں امریکا، برطانیہ اور چین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بغیر پینڈیمک بھی بہت لوگ بیمار ہو رہے ہیں، پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے چار لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی ایک بھی ڈوز نہیں ملی اور لاکھوں بچوں کو صرف سنگل ڈوز دی گئی۔

مصطفی کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر صرف مریضوں کا علاج نہیں بلکہ شہریوں کو امراض سے تحفظ فراہم کرنا ہے اور یہ کام صرف وزیر صحت کا نہیں بلکہ یو سی کونسلر سے لے کر سب کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں۔

 

Similar Posts