ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ واٹر ٹینکرز یا فائر بریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے لیے پانی موجود نہیں تھا، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واٹر بورڈ کے حکام نے واقعے کے فوری بعد پانی کی فراہمی شروع کر دی تھی اور متعلقہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق کسی بھی حادثے کی اطلاع ملنے اور جائے وقوعہ تک پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے اور عملہ بروقت موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی الزام تراش ویڈیوز میں خود پانی کی موجودگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جس سے پانی نہ ہونے کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن مختلف ادارے مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں اور پوری کارروائی میڈیا کی مکمل نگرانی میں جاری ہے، جس سے شفافیت واضح ہے۔
آخر میں ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ مفروضوں اور افواہوں پر مبنی بیانات سے گریز کریں اور انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں مکمل کرنے دیں۔