امریکی فوجیوں کی ہلاکت: کیا امریکا اب بھی پہلے نمبر پر ہے یا اسرائیل؟ علی لاریجانی

0 minutes, 0 seconds Read

ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی شعبدہ بازیوں کے باعث امریکی عوام کو ایران کے خلاف ایک ظالمانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق علی لاریجانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسخرہ پن پر مبنی حرکات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے امریکی عوام کو ایران کے خلاف غیر منصفانہ جنگ میں گھسیٹ لیا۔

انہوں نے لکھا کہ اب اُنہیں حساب لگانا ہوگا کہ صرف چند دنوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا امریکا اب بھی پہلے نمبر پر ہے یا اسرائیل؟

علی لاریجانی، جو ماضی میں ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر رہ چکے ہیں اور اس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں نے ایک مبہم پیغام میں خبردار کیا کہ کہانی ابھی جاری ہے۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

یہ جنگ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔ ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی مارے گئے، جنہوں نے جون 2025 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں اپنے پیش روؤں کی ہلاکت کے بعد عہدے سنبھالے تھے۔

۔

حکومتی اندازوں کے مطابق اب تک چار روزہ جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار پچاس ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنوبی ایرانی شہر میناب کے 165 اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو وسطی تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے، جن میں ان کی اہلیہ، بیٹی، بہو، داماد اور پوتے پوتیاں شامل تھے۔

ایرانی قیادت نے خامنہ ای کی ہلاکت کا سخت انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا اور اسرائیل و مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔

پیر کے روز جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران نے طویل جنگ کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔

Similar Posts