اسرائیلی انٹیلیجنس کی ایک رپورٹ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے فوری رابطہ کیا اور امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ خفیہ رابطوں سے متعلق وضاحت طلب کی، تاہم وائٹ ہاؤس نے کسی بھی قسم کی براہِ راست بات چیت یا سیز فائر مذاکرات کی تردید کر دی۔
الجزیرہ نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوز کی رپورٹ کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کو شبہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انٹیلیجنس اداروں نے نیتن یاہو کو امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں سے آگاہ کیا، جس پر اسرائیلی وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس سے براہِ راست رابطہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ سیز فائر یا کسی قسم کی مفاہمت پر بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ خفیہ رابطے میں ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے جواب میں واضح کیا گیا کہ ایسی کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ ایران کی جانب سے خطے کے بعض ثالثیوں کے ذریعے کچھ پیغامات ضرور موصول ہوئے تھے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ان پیغامات کو نظرانداز کر دیا ہے۔