پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیراہ میں آپریشن کے باعث ہے لوگ بے گھر ہورہے ہیں، گزشتہ آپریشن میں متاثرین کو 4 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ملا، قبائلی علاقے ہمارے پرامن علاقے تھے جہاں اب حالات خراب ہیں، شدید ترین سردی میں لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے، جماعت اسلامی تیراہ متاثرین کے ساتھ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل افریدی کو اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، صوبائی حکومت کہتی ہے کہ آپریشن مرضی کے بغیر ہورہا ہے، یہ بیان دے کر جان نہیں چھڑا سکتے، حکومت آپریشن متاثرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان افغانستان جھگڑے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، دونوں ممالک یہ ممکن بنائیں سرزمین ایک دوسرے کے لیے استعمال نہ ہو، اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی سے ہندوستان خوش ہوتا ہے، افغانستان میں پھنسے طلباء کو مشکلات سامنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے تجارت متاثر ہورہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط ہونا چاہیے، بااختیار مقامی حکومتیں ہونی چاہئیں، مقامی حکومتوں کو توسیع نہیں دینی چاہیے، بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کوئی سیاسی جماعت بات نہیں کرتی،
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 17 سال سے کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے، کراچی منی پاکستان ہے ہم کراچی کی بات کرتے ہیں تو پورے پاکستان کی بات ہوتی ہے، کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا تھا جو چھینا گیا، کراچی سانحہ پر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہے، رمضان المبارک کے بعد جماعت اسلامی ایک بار پھر سڑکوں پر آئے گی، اب ہم معاہدوں پر اعتبار نہیں کریں گے۔