اگر آپ بھی عام دودھ پتی سے اکتا چکے ہیں اور سردیوں میں کوئی منفرد اور شاہانہ ذائقہ چاہتے ہیں تو ایرانی چائے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے، جس کا ذائقہ اور خوشبو ایک ہی گھونٹ میں کیفے کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔
ایرانی چائے، جسے بعض حلقوں میں حیدرآبادی دم چائے بھی کہا جاتا ہے، اپنے گاڑھے پن، دلکش خوشبو اور خاص اندازِ تیاری کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ چائے عام گھریلو چائے سے اس لیے مختلف ہے کہ اس میں چائے اور دودھ کو الگ الگ تیار کیا جاتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔
روایتی طور پر ایرانی چائے میں دودھ کے بجائے کھویا یا ماوا استعمال کیا جاتا تھا، جو اسے خاصا بھرپور بناتا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدت آئی اور آج کل ہیوی کریم اور کنڈینسڈ ملک کے استعمال سے بھی وہی گاڑھا اور لذیذ ذائقہ حاصل کیا جاتا ہے، جو اس چائے کی پہچان بن چکا ہے۔
اس خاص چائے کی تیاری کے لیے چائے کی پتی، سبز الائچی، دار چینی، چینی اور پانی کو ایک پتیلی میں ڈال کر اچھی طرح ابالا جاتا ہے۔ جب خوشبو نکلنے لگے تو پتیلی کو ایلومینیم فوائل اور ڈھکن سے ڈھانپ کر ہلکی آنچ پر دم دیا جاتا ہے، تاکہ ذائقہ پوری طرح جذب ہوجائے، پھر چائے کو چھان لیا جاتا ہے۔
دوسری جانب دودھ کو الگ برتن میں ابال کر اس میں ہیوی کریم اور کنڈینسڈ ملک شامل کیا جاتا ہے اور ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دودھ گاڑھا اور ملائم ہوجائے۔ یہی گاڑھا دودھ ایرانی چائے کو اس کا مخصوص اور شاہانہ انداز دیتا ہے۔
پیش کرنے کے لیے کپ میں پہلے دم دی ہوئی چائے ڈالی جاتی ہے اور اس کے بعد اوپر سے گاڑھا دودھ شامل کیا جاتا ہے۔ اگر چاہیں تو خوشبو اور ذائقے کو مزید نکھارنے کے لیے پسی ہوئی بادیان اوپر سے چھڑکی جاسکتی ہے، جو اس چائے کو ایک خاص دلکشی بخش دیتی ہے۔
ایرانی چائے کا ذائقہ نہایت بھرپور اور خوشبودار ہوتا ہے۔ جو افراد مسالے دار چائے پسند کرتے ہیں وہ اپنی پسند کے مطابق مصالحوں کی مقدار میں معمولی اضافہ کر سکتے ہیں، تاہم اصل ذائقہ برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اجزاء میں تبدیلی نہ کرنا بہتر ہے۔
یہ چائے نہ صرف سردیوں میں جسم کو گرم رکھتی ہے بلکہ مہمانوں کے لیے بھی ایک خاص اور یادگار پیشکش بن سکتی ہے۔ اگر آپ گھر میں بیٹھے کیفے جیسا تجربہ چاہتے ہیں تو ایرانی چائے ضرور آزمائیں۔