عالمی اقتصادی فورم ڈیووس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے پہلی بار واضح طور پر کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یورپی ممالک پر عائد کیے جانے والے ممکنہ امریکی ٹیرف بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔
🚨 pic.twitter.com/3FM8el4RAe
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) January 21, 2026
انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے نافذ ہونے والے ٹیرف اب لاگو نہیں ہوں گے۔ تاہم ٹرمپ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ کے معاملے پر فوری مذاکرات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا اس مسئلے پر سنجیدہ بات چیت چاہتا ہے۔
ادھر یورپی پارلیمنٹ نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے پر کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی بیانات نے یورپ اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
ON THIN ICE: President Trump issues a firm warning to Denmark over Greenland, making it clear that the U.S. will remember if its request for “world protection” is rejected:
“So we want a piece of ice for world protection, and they won’t give it.”
“We’ve never asked for anything… pic.twitter.com/cLKp6qR7qH
— Fox News (@FoxNews) January 21, 2026
ڈنمارک نے ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ امریکی صدر اب بھی گرین لینڈ کے حصول کے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
The @UN Charter is the foundation of international relations, the bedrock of peace, sustainable development & human rights.
When leaders run roughshod over international law, picking & choosing which rules to follow – they are undermining global order & setting a perilous…
— António Guterres (@antonioguterres) January 21, 2026
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔