’آنکھ کے بدلے آنکھ‘: ایران کا امریکا اور اسرائیل کو جواب

0 minutes, 0 seconds Read

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے گیارہویں روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر شدید بمباری کی۔ تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقے نشانہ بنے، عرب میڈیا نے اسے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا۔ ایران نے تل ابیب، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور خلیجی ممالک پر میزائل داغے، پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا فوری اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب فوراً اور تناسب کے ساتھ دیا جائے گا۔ قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ دشمن جان لے کہ جو کچھ بھی وہ کریں گے، بلا شبہ اس کا متناسب اور فوری جواب ہوگا۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکرکا کہنا تھا کہ آج ہم ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے اصول کے ساتھ چل رہے ہیں، بغیر کسی سمجھوتے یا استثناء کے۔ اگر وہ بنیادی ڈھانچے پر جنگ شروع کریں گے، ہم بلا شبہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گے۔

دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں، جب تک ضروری ہوا میزائل حملے جاری رکھیں گے، امریکا کے ساتھ ماضی کے مذاکرات کا ایران کو بہت تلخ تجربہ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر، ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف حملوں کی 35 ویں لہر کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں کی 35 ویں لہر میں خیبر شکن، فتح، عماد، خرمشہر اور قدس اسٹریٹجک میزائل فائر کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس میزائل حملے میں تل ابیب، بیت شمش، مقبوضہ بیت المقدس سمیت امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو اکیانوے اسرائیلی فوجی اور شہری زخمی ہوئے جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

پاسداران انقلاب نے امریکا کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا پہلے بھی کہا تھا اور اب پھر کہتے ہیں، حملہ آوروں سے تعلق رکھنے والے کسی جہاز کو گزرنے کا حق نہیں، اگر تمہیں کوئی شک ہے تو قریب آ کر دیکھ لو۔

یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے گیارہویں روز ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اب تک کا سب سے ہولناک حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تہران سمیت مختلف علاقوں میں تباہی پھیل گئی۔

امریکی مرکزی فوجی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اب تک پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ امریکی فضائیہ کے جنرل ڈین کین کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایران کے بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گزشتہ دس روز کے دوران پچاس سے زائد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق حملوں میں تہران کے مشرقی، مغربی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں فضا زور دار دھماکوں سے گونجتی رہی اور شہر کے آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل چھا گئے۔ رسالت اسکوائر کے قریب ہونے والے ایک حملے میں چالیس افراد شہید ہوئے۔

ایرانی حکام کے مطابق مجموعی طور پر شہدا کی تعداد تیرہ سو سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ بارہ ہزار سے زائد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جس کے باعث طبی مراکز زخمیوں سے بھر گئے ہیں۔

ادھر، جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیلنے لگے ہیں۔ عراق کے شہر اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر بغیر پائلٹ طیارے سے حملہ کیا گیا جب کہ بحرین میں ایک ہوٹل کی عمارت سے ڈرون ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

ابوظبی کے الرویس صنعتی کمپلیکس میں بھی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی۔ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا جب کہ بحرین کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ اب تک ایک سو پانچ میزائل اور ایک سو چھیتر ڈرونز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

Similar Posts