عمارت کے باہر بیٹھے عارف کے چاچا نے بتایا کہ بھتیجے کا فون آیا تھا کہ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ۔ میں آگ میں گھرا ہوا ہوں اور دم گھٹ رہا ہے۔
بزرگ چاچا نے شکوہ کیا کہ اہلخانہ کبھی ڈی سی آفس اور کبھی سول اسپتال کے چکر لگا رہے ہیں لیکن کوئی سرکاری افسر بات کرنے یا سننے کو تیار نہیں۔
اسی طرح، گل پلازہ میں لاپتا ٹیکسٹائل فیکٹری کا سینیئر منیجر محمد رفیق 3 بچوں کا باپ اور چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ ناظم آباد فردوش کالونی کے رہائشی نے دکان کرایہ پر دے رکھی تھی۔
رفیق کے والد اور بھائی تو پلازہ سے باہر نکل گئے، لاپتا رفیق اپنے والد کو ایک اور دکان خریدنے کے حوالے سے سرپرائز دینے آیا تھا۔
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق شہروز اقبال کا جنازہ ادا کر دیا گیا، شہروز اقبال کی پلازہ میں کراکری کی دکان تھی جس کا 4 سالہ بیٹا بھی ہے۔
اس کے علاوہ، 16 سالہ فیضان بھی لاپتا ہے، جس کی والدہ اپنے بیٹے کی خیر و عافیت واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اللہ سے امید ہے۔