رمضان کی مقبول سوغات پھینی پر تنازع: پاؤں سے میدہ گوندھنے کی ویڈیو وائرل

0 minutes, 11 seconds Read
رمضان المبارک کے دوران برصغیر میں خاص طور پر پسند کی جانے والی ’’پھینی‘‘ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ مگر اس مرتبہ وجہ ذائقہ نہیں بلکہ ایک متنازع ویڈیو بنی ہے۔

بھارت کے شہر جودھپور سے منسوب سوشل میڈیا کلپ میں ایک یونٹ میں مبینہ طور پر پھینی تیار کرنے کے لیے آٹا پاؤں سے گوندھتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد صارفین میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔ صارفین نے صفائی کے ناقص انتظامات پر سخت تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ فیکٹری کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ بعض حلقوں نے اس واقعے کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کے تناظر میں بھی دیکھا، خصوصاً اس لیے کہ رمضان میں استعمال ہونے والی خوراک سے یہ معاملہ جڑا ہوا تھا۔

🚨 SHOCKING! In Jodhpur, a viral video EXPOSED flour being kneaded with feet at a phini manufacturing unit 🤢

After public outrage, authorities DESTROYED 110 kg of phini and ordered STRICT ACTION. pic.twitter.com/4SciJF3CuH
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) January 22, 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق عوامی دباؤ بڑھنے پر مقامی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 110 کلوگرام پھینی تلف کردی اور ذمے داروں کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

اس واقعے نے بھارت میں پہلے سے موجود حساس سماجی ماحول کو بھی ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ بعض صارفین اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا کہ آیا ایسے واقعات کو محض غفلت سمجھا جائے یا اس کے پیچھے کسی قسم کی جان بوجھ کر کی گئی لاپروائی بھی شامل ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مذہبی بنیادوں پر تنازعات پہلے ہی خبروں میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ صحتِ عامہ سے متعلق ہے اور اسے کسی مخصوص طبقے سے جوڑنے کے بجائے قانونی دائرے میں دیکھنا چاہیے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خوراک تیار کرنے والے تمام یونٹس کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

رمضان کے قریب آتے ہی اس ویڈیو نے خطے میں خوراک کی تیاری، صفائی کے معیار اور نگرانی کے نظام پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ صارفین مطالبہ کر رہے ہیں کہ مذہبی مواقع پر استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری میں مزید سخت احتیاط برتی جائے۔

Similar Posts