یاد ریے کہ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر ضلع ایسٹ نے ختم نبوت چوک کے قریب کنیز فاطمہ سوسائٹی سے متصل جامعہ کراچی کی اراضی پر قائم کیے گئے مذکورہ پیٹرول پمپ کی این او سی منگل کو منسوخ کردی تھی۔
تاہم اس کے باوجود بدھ سے پیٹرول پمپ کو فعال کرکے یہاں سے پیٹرول کی فروخت شروع کردی گئی تھی جس سے جامعہ کراچی کے اکیڈمک حلقے میں ایک تشویش پائی جاتی تھی۔
“ایکسپریس” کے رابطہ کرنے پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جیسے ہی ان کے علم میں یہ بات آئی کہ این او سی کی منسوخی کے باوجود پیٹرول پمپ کو فعال کردیا گیا یے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو اس معاملے پر خط لکھ کر آگاہ کیا گیا۔
وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز قبل جامعہ کراچی کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے یونیورسٹی اراضی کی موٹیشن کرانے اور لینڈ سروے کرانے کی تجویز دی تھی لہذا اس سلسلے میں بھی ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کو جمعرات کی صبح ہی خطوط لکھ دیے گئے جبکہ بدھ کو منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں بھی اراکین کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔
واضح رہے کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر پیٹرول پمپ کھولنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو خط لکھ کر کارروائی کی سفارش کی تھی اور اس خط کے ضمن میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے متعلقہ پیٹرول پمپ کی این او سی منسوخ کردی گئی تھی۔
اس سے قبل جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے پیٹرول پمپ کی تیزی سے جاری تعمیر اور
معاملہ ذرائع ابلاغ پر آنے پر محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو آگاہ کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کی تھی۔