عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم (WEF) میں پیش کیا جسے ’’نیو غزہ‘‘ پراجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ اس منصوبے میں غزہ کے بڑے علاقوں کو فلوریسٹک سٹی اسکائی اسکریپرز، لگژری رہائشی یونٹس، ڈیٹا سینٹرز، سیاحت زونز، پارکس، زرعی اور صنعتی علاقے کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کا خاکہ شامل ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ غزہ میں ایک لاکھ مستقل رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جب کہ 75 طبی مراکز کو بحال اور فعال کیا جائے گا۔
ان کے بقول 200 سے زائد تعلیمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ عمارتیں بھی منصوبے کا حصہ ہیں اس کے علاوہ راہداری، سمندری بندرگاہ اور ہوائی اڈے سمیت متعدد ترقیاتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ یہ بڑا ترقیاتی منصوبہ تقریباً 25 بلین ڈالر لاگت کا ہے جس کے ذریعے غزہ میں امن اور خوشحالی آئی گی۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے بھی اس منصوبے کے متعلق کہا تھا کہ یہ خوبصورت مقام سمندر کے کنارے ہے اور بہتر زندگی کے امکانات رکھتا ہے۔
لیکن ناقدین نے اسے غزہ کو صرف سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے دیکھا جانے والا پراجیکٹ قرار دیا ہے۔
کاروباری اور سیاسی مبصر ڈیویڈ الحدّاد نے کہا کہ نسل کشی کا منصوبہ دو مرحلوں میں ہے، پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا، پھر بچ جانے والوں کو ترقی کے نام پر وہاں سے نکال دینا۔
بین الاقوامی وکیل ایتائی اپسشتائن نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ کسی قانون میں ہے، نہ حقائق پر مبنی ہے۔ صرف جیرڈ کشنر کے شاندار رئیل اسٹیٹ ڈیکز کا مجموعہ ہے جس میں حقیقی انسانی امداد، بحالی اور امن کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔
الجزیرہ کے تجزیہ کار ہانی محمود نے کہا کہ غزہ کو ان لوگوں کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے جو روزانہ قتل، قحط اور مصائب کی زد میں ہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تصور کی جا رہی ہے جسے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔
انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ہو یا جیرڈ کشنر کا نیو غزہ پراجیکٹ، دونوں میں فلسطینیوں کو، ان کے جذبات کو اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا۔
جس میں فلسطینی نمائندگان شامل نہیں ہیں، دراصل ایک غلط بین الاقوامی شمولیت کا مظاہرہ ہے۔ کچھ کے مطابق اس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔