سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ویڈیو بیان میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ کئی صحافیوں اور لوگوں نے سوالات کیے ہیں کہ حکومت ووٹر کی اہلیت کے لیے عمر کی حد 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرغور ہے اور نہ ہی ایسی کوئی قانون سازی کی جارہی ہے، ہم پاکستان کے نوجوانوں پر اعتماد رکھتےہیں اور ان کے ووٹ دینے کا حق ان سے چھیننے کا تصور بھی نہیں کرسکتےہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مخالفین کی ڈس انفارمیشن مہم ہے اور اب ہمارے مخالفین صرف ڈس انفارمیشن کے سہارے ہی زندہ ہیں، وہ جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، اس کے ذریعے مسائل بناتے ہیں اور اس پر اپنی سیاست کی دکان چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے یا مشترکہ اجلاس میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جارہی ہے کہ جس سے ووٹرز کی عمر کو 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں اور وہ ہمارے پاکستان کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہیں، وہ صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے مستقبل کے لیے صحیح فیصلہ کریں۔
احسن اقبال نے کہا کہ لہٰذا میں اس بات کی سختی سے تردید کرتا ہوں اور یہ خبریں صرف افواہ سازی ہیں، ہمارے مخالفین کی ڈس انفارمیشن فیکٹری کی پیداوار ہیں جو صرف اس طرح کی افواہیں پھیلا کر اپنے آپ کو سیاست میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Reports of increasing voters age from 18 years to 25 years are baseless. There is no such legislation under consideration. pic.twitter.com/IbXQSbFo77
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) January 22, 2026
خیال رہے کہ میڈیا میں ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت ووٹر کی عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے جا رہی ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کے ذریعے ووٹر کی عمر کی حد بڑھانے سے متعلق خبروں پر خط بھی جاری کیا۔
پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں نے ان خبروں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کا جاہلانہ اقدام بی اے کی ڈگری کی پابندی تھا جو بعد میں واپس لینا پڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کیا یہ کسی خوف کی علامت ہے؟ کیا نوجوانوں نسل کے شعور پر عدم اعتماد کیا جا رہا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ نوجوان نسل کی فہم و فراست، اجتماعی دانش اور قوت فیصلہ تو سرمایہ ہے، ہم ملک کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے توقع رکھتے ہیں وہ اس رجعت پسندی کے رحجان کا ساتھ نہیں دیں گے۔