اسرائیلی صدر کا دورہ آسٹریلیا، سڈنی اور میلبورن میں ہزاروں افراد احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے

آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والا احتجاج پیر کے روز تشدد کا رخ اختیار کر گیا، جس کے بعد سڈنی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا چار روزہ دورہ آسٹریلیا کی یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھا، خاص طور پر دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد۔ تاہم ان کے دورے پر سڈنی اور میلبورن میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔

سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں فلسطین کے حق میں نعرے لگائے گئے اور تقاریر کی گئیں۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی صدر غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری، گھڑ سوار اہلکار اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات رہے۔

پولیس کے مطابق جب مظاہرین نے آگے بڑھنے اور رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی تو حالات کشیدہ ہو گئے، جس پر آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بار بار گھوڑوں اور اسپرے کے ذریعے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا۔

اسی دوران میلبورن کے وسطی علاقے میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی حکومت نے احتجاج سے قبل پولیس کو مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اضافی اختیارات بھی دے رکھے تھے۔

ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے احتجاجی مقامات سے کچھ فاصلے پر ایک تقریب میں شرکت کی اور بونڈی بیچ واقعے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے ماضی میں اسرائیلی صدر کے بعض بیانات پر بھی تنقید کی جا چکی ہے۔

Similar Posts