امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دیتے دہوئے کہا ہے کہ اگر کینیڈا نے چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا پر سو فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ڈیل کینیڈا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ چین کینیڈا کو زندہ نگل جائے گا اور اس کی تجارت، سماجی ڈھانچے اور مجموعی طرز زندگی کو بھی تباہ کردے گا۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین کینیڈا کو استعمال کر کے امریکی ٹیرف سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ’گورنر کارنی‘ (کینیڈین وزیرِاعظم) یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’ڈراپ آف پورٹ‘ بنا سکتے ہیں، جہاں سے چینی مصنوعات امریکا بھیجی جائیں، تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر کینیڈا نے چین سے معاہدہ کیا تو امریکا میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کینیڈا کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ کے اوپر مجوزہ امریکی میزائل دفاعی منصوبے ’گولڈن ڈوم‘ کی مخالفت کر کے شمالی امریکا کی سلامتی کو کمزور کر رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس چین کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ کینیڈا گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم کی تعمیر کے خلاف ہے، حالانکہ گولڈن ڈوم کینیڈا کی حفاظت کرے گا۔
اس کے بجائے انہوں نے چین کے ساتھ کاروبار کے حق میں ووٹ دیا، جو پہلے ہی سال میں انہیں نگل جائے گا۔

گولڈن ڈوم ایک مجوزہ امریکی قیادت میں تیار کیا جانے والا میزائل دفاعی نظام ہے، جس کا مقصد پورے شمالی امریکا کو حفاظتی حصار میں لینا ہے۔ اس منصوبے میں خاص طور پر گرین لینڈ کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے بیلسٹک، ہائپرسونک اور دیگر جدید میزائل خطرات کی بروقت نشاندہی اور روک تھام شامل ہے۔ یاد رہے گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات اُن تقاریر سے ملتے جلتے ہیں جو انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں کی تھیں۔ یہ بات اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ امریکا اور کینیڈا، جو طویل عرصے سے اتحادی رہے ہیں، اس وقت غیر معمولی سفارتی کشیدگی کا شکار ہیں، خاص طور پر ایسے دور میں جب چین کے ساتھ عالمی سطح پر مقابلہ تیز ہو رہا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی حال ہی میں چین کا دورہ مکمل کر کے واپس آئے ہیں، جہاں تجارتی تعلقات میں توسیع پر اتفاق ہوا۔
ان معاہدوں میں کینیڈین زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی اور چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کوٹہ شامل ہے۔ ٹرمپ نے ان اقدامات کو عوامی طور پر قابلِ قبول قرار دیا، تاہم انہیں اپنی مجموعی تنقید کے تناظر میں پیش کیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ڈیووس میں کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے امریکا پر کی گئی سخت ترین تنقید کے چند دن بعد سامنے آیا، جہاں مارک کارنی نے امریکی بالادستی کے زوال کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئے عالمی نظام کے ظہور کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ٹرمپ نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم اپنی فطری ساخت کے باعث خود بخود کینیڈا کو بھی تحفظ فراہم کرے گا، اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ کینیڈا اپنے دفاع کا بڑا حصہ امریکا کا مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے فورم کے شرکا سے خطاب میں کہا تھا ہم ایک گولڈن ڈوم بنا رہے ہیں جو اپنی نوعیت کے باعث کینیڈا کا بھی دفاع کرے گا۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا ہم سے بہت سی مفت سہولتیں لیتا ہے۔ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے۔
کینیڈا واپس آ کر وزیر اعظم کارنی نے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ نہیں ہے۔ کینیڈا اس لیے ترقی کرتا ہے کیونکہ ہم کینیڈین ہیں۔