اربوں روپے کی کرپشن جو پچھلے سال ہوئی، جس کی نشاندہی آئی ایم ایف نے کی ہے، وہ صرف سندھ میں ہوئی ہے اور وفاق یا دوسرے صوبوں میں نہیں؟ اس ساری بحث میں دراصل اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے کہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ مگرکراچی کے لوگوں کو بتی کے پیچھے نہیں لگایا جا سکتا، اب ان کو استعمال کرنا چھوڑ دیں۔
کراچی 1947 سے پہلے جوکچھ بھی تھا، اس وقت کو اب دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، مگر یہ ضرور ماننا چاہیے کہ یہ مہاجروں کا شہر تھا اور ہے۔ یہ سندھ کے لوگوں کی خندہ پیشانی تھی کہ انھوں نے کس طرح سے مہاجرین کا خوشدلی سے استقبال کیا۔ وہ لوگ جو ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے، ان کی اکثریت نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور اب اس بات کو 78 سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کو ان لوگوں سے کوئی ہمدردی نہ تھی، مگر ان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے تھے۔
گل پلازہ کے واقعے نے کراچی کی سیاست ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ بشریٰ زیدی کا بس کے نیچے آنا، جس نے کراچی کی سیاست میں مہاجر لفظ اور ایک صوبے کی تحریک کو جنم دیا۔ تین عشروں سے کراچی کی سیاست پر راج کرنے والی سیاسی جماعت یعنی جماعتِ اسلامی کی سیاست کو پیچھے دھکیل دیا۔کراچی کے میئر عبدالستار افغانی نہیں بلکہ فاروق ستار بنے۔ ان کے بعد مصطفیٰ کمال آئے اور پھر وسیم اختر آئے، مگر بلدیاتی حکومت کی بدنصیبی یہ تھی کہ جب اس ملک میں آمریتیں آتی تھیں تو لوکل باڈیزگورنمنٹ کے لیے انتخابات ہوتے اور جب ملک میں جمہوریت رائج ہوتی تو لوکل باڈیزکو بند کردیا جاتا تھا۔
جب پاکستان بنا توکراچی کو ملک کا دار الخلافہ بنایا گیا اور اردوکو ملک کی قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس سے پہلے اردو زبان اور بنگالی زبان میں ٹاکرہ ہوا، وہ اس لیے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی، مغربی پاکستان سے زیادہ تھی اور اردو زبان صرف ان کی تھی جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے، وہ یا توکراچی میں آباد ہوئے یا پھر سندھ میں۔ جو مہاجر مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب ہجرت کر کے آئے وہ پنجابی بولتے تھے اور وہ پنجاب میں رہے۔ جو مہاجرین پنجاب یا اس وقت کے صوبہ سرحد میں آباد ہوئے وہ ان میں جذب ہوگئے۔
اردو زبان تحریکِ پاکستان کی زبان تھی۔ تمام بوجھ وملبہ کراچی پرگرا،جب حکمران اس ملک کو آئین نہ دے سکے۔ جمہوریت یہاں چل نہ پائی اور حکمرانوں کی روش یہ تھی کہ یہاں تمام زبانیں، ثقافتیں، تاریخ و تہذیب کے معنی ہیں۔ ایک ایسا بیانیہ دیا گیا کہ یہ ملک مذہب کے نام پر بنا ہے۔ ہم نے غوریوں اورغزنویوں اور دوسرے تمام غیر ملکی حملہ آوروں کو اپنا ہیرو بنایا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ہندوستان کی تاریخ میں جانا پڑا۔ مغلیہ دور جو چار سو سال پر محیط ہے۔ اس حکومت میں اکبر بادشاہ نے مقامی ثقافت اور تہذیب کو قریب کیا۔
اکبر بادشاہ کی بادشاہت لگ بھگ پچاس سال تک قائم رہی اور اس کے دورِ حکومت میں ابھرتی تمام بغاوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل پاکستان کا وجود، مسلمانوں کے اس دور کے خاتمے کی رنجش تھی۔ پہلی سول نافرمانی1857 میں ہوئی جس کی قیادت ہندوستان کے مسلمانوں نے کی تھی یا پھر دہلی میں رہنے والے مسلمانوں نے کی تھی اور تقریباً نوے سال بعد 1940 میں جو سول نافرمانی کی تحریک چلی تھی، انگریز سامراجیت کے خلاف اس کی کال کانگریس نے دی تھی اور اس کی قیادت ہندو اکثریت نے کی تھی۔ کراچی اس تحریک کا تسلسل ہے۔ یہ کراچی جہاں یہ مہاجرین آکرآباد ہوئے تھے، آج ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ اس شہر میں پٹھان، ہندکو بولنے والے، بلوچ، پنجابی اور بنگالی بھی رہتے ہیں۔
سندھ میں سب سے بڑی ہجرت بلوچوں نے کی تھی۔1740 میں نادر شاہ کے دلی پرحملے اور لوٹ مارکے بعدکلہوڑوں نے دوبارہ سندھ کی آزادی کا جھنڈا لہرایا۔ سوا سو سال پہلے سندھ کا دارالخلافہ ٹھٹھہ تھا،1843 میں انگریزوں نے بلوچوں سے سندھ کو فتح کیا اور اس کو ہندوستان کا حصہ بنایا، لٰہذا یہ بلوچ سندھ کا اٹوٹ حصہ ہیں، جن کو سندھی بنے ہوئے ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کراچی برصغیرکی تقسیم سے پہلے بھی ایک مرکزی شہر تھا۔کراچی میں اکثریت رہنے والے سندھی ہندو، پارسی اور بلوچ بھی تھے۔ تقسیم کے بعد اس شہر کی ڈیموگرافی بدلی اور اکثریت یہاں اردو بولنے کی ہوئی، مگر اس کے باوجود یہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے آباد تھے۔ پچھلے پچیس سالوں میں اس شہرکی ماہیت مزید بدلی۔
یہ شہر لسانیت کے حوالے سے تین بڑی اکائیوں کی پہچان ہے، مہاجر، سندھی اور پٹھان۔ یہاں کے سندھی اور بلوچ ایک ہی بیانیہ رکھتے ہیں، اسی لیے وہ سیاسی اعتبار سے ایک ہیں۔ مہاجروں کی سوچ میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ وہ اس لیے کہ متحدہ قومی موومنٹ جوکل تک ان کی سب سے بڑی ترجمان تھی اب وہ نہیں رہی۔
بے شک متحدہ کراچی میں 80% نشستیں جیتے، مگر 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے ان سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی والے بھی کراچی کو کچھ نہ دے سکے۔ یوں ہرحکومت میں کراچی عدم توجہی کا شکار رہا اور اندرونِ سندھ اس سے بھی زیادہ۔کراچی کا ووٹ مڈل کلاس ووٹ ہے مگر انتخابات کے دوران ہائی جیک کر لیا جاتا ہے اور سندھی ووٹ آج تک وڈیروں کے چنگل سے آزاد نہ ہوسکا۔ سندھیوں کو اب سمجھ آجانا چاہیے کہ وہ وڈیروں کو ووٹ دیتے ہیں اور اگر ایسا کوئی کہتا ہے کہ یہ وڈیروں کی حکومت ہے تو درست کہتا ہے۔ یہ وڈیرے جوکل ضیاء الحق کے ساتھ تھے، اس سے پہلے وہ جنرل ایوب کے ساتھ تھے، پھر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ تھے اور اب بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔
شہری سندھ اوردیہی سندھ کو ایک مصنوعی بیانیے پرچلایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات سے خوش ہے کہ کراچی کا بیانیہ ایسا ہی ہو جس کے ذریعے وہ سندھیوں کے ووٹ حاصل کرسکیں اور باقی ووٹ وڈیرے کا ہے اور وڈیرا ان کی پارٹی میں ہے اور اس وڈیرے کو اپنے حلقے میں کھلی آزادی ہے کہ وہ جس پر چاہے ایف آئی آرکٹوائے۔ آج بھی تھانے میں یہ روایت ہے کہ جوکوئی وڈیرے سے دشمنی مول لے گا تو اس کے تھانے بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔
شہری اور دیہی سندھ میں لاوا ہے جو پک رہا ہے۔ اس کو مصنوعی انداز میں روکا نہیں جا سکتا۔کراچی کے لوگوں کو لوکل باڈیز مضبوط نہیں ملیں۔ خواجہ آصف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ پیپلز پارٹی کو پاور اٹھارہویں ترمیم کے باعث ملی، مگر وہ اس پاورکو نچلی سطح تک نہیں لا رہی ہے۔ توکیا اس میں قصور اٹھارہویں ترمیم کا ہے؟ مسلم لیگ (ن) بڑی تیزی سے جمہوری اقدارکو الوداع کہہ رہی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ وہ وہی طریقہ کار اپنا رہی ہے جو طریقہ کار ان کا جنرل ضیاء کے دور میں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے اور اپنے اقتدارکے تحفظ کے لیے وہ یہ روش اختیارکر رہے ہیں ۔
سندھ کے اندر اردو بولنے والے چاہے اپنے آپ کو سندھی کہیں یا مہاجر یہ ان کی مرضی مگر اٹھارہویں ترمیم میں ہی ان کے مفادات کا تحفظ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے کیونکہ جتنی خود مختاری سندھ کو ملے گی، کراچی اتنا ہی آزاد اور خود مختار ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے لوگ اپنے ووٹ کی حفاظت کریں اور دیہی سندھ کے لوگ، مصنوعی ذہانت کے اس دور میں وڈیروںکے چنگل سے اپنے آپ کو آزاد کروائیں۔