ڈپٹی کمشنر ضلع ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ گل پلازہ میں گزشتہ 9 روز سے جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کرلیا گیا ہے، پیر کو ایک مرتبہ سروے ٹیم دوبارہ جائزہ لے گئی اور اس کے بعد متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 اور لاپتا ہونے والے افراد کی فہرست 79 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 13 افراد اب تک اپنے ڈی این اے جمع کرانے نہیں آئے ہیں اور نہ وہ رابطہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 55 افراد کے لواحقین کے ڈی این اے نمونے جمع کرائے ہیں جبکہ 13 افراد کے لواحقین کو پیر تک وقت دیا گیا ہے، اگر وہ پیر کو آجاتے ہیں تو ان کے نمونے حاصل کر لیے جائیں گے ورنہ ہم سمجیں گے وہ غلط لوگ تھے۔
جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ چند لواحقین کے تین،تین یا چار،چار لوگ بھی شامل ہیں اور 6 افراد کی شناخت پہلے ہی روز کرلی گئی تھی، اب تک ساںحہ گل پلازہ میں جاں بحق 23 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فرسٹ فلور مکمل کلئیر کر لیا گیا ہے، ایک حصہ ابھی باقی ہے، جس کوسرچ کیا جائے گا۔
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت میں جانے سے گریز کیا جائے، ہم نے مارکنگ بھی کی ہے۔
جاوید نبی کھوسو نے مزید بتایا کہ 30لاشوں کا ڈیٹا حکومت کوبھیج دیا گیا،لاشوں کا ڈیٹا معاوضے کی ادائیگی کےلیے بھیجا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 30 لاشوں کی شناخت اورمکمل جانچ کے بعد ڈیٹا بھیج دیا گیا ہے اورورثا میں چیک جلد ہی تقسیم کیے جائیں گے۔
مقدمے کے بعد بیانات درج کرائے جا رہے ہیں، ایس ایس پی سٹی
ایس ایس پی سٹی عارف عزیزنے میڈیا کو بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل ہی درج کیا گیا ہے اور مقدمے کے اندراج کے بعد بیانات قلمبند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کے 6 گارڈز کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، ہفتے کو 10 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور دوران تفتیش غفلت اور لاپرواہی سامنے آنے پر تمام پہلو سامنے لائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمارت سے ملنے والے ڈی وی آر کا ڈیٹا بہت زیادہ ہے، ڈی وی آر کی مدد سے تفتیش میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے دروازے کیوں بند کیے گئے اور آگ لگنے کے بعد کیوں دروازے نہیں کھولے گئے اس پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔