حال ہی میں جاری ’’ امریکا کی قومی دفاعی حکمت عملی 2026‘‘ واشنگٹن کے کئی دہائیوں پرانے اس موقف سے دستبرداری کا پتہ دے رہی ہے۔ پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے اسلام آباد کے خارجہ پالیسی کے چیلنجز میں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ کے “امریکا فرسٹ” نظریے کی واپسی کے ساتھ اسلام آباد میں بہت سے لوگوں کو دوبارہ نظر انداز کیے جانے کا خدشہ تھا۔ تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران حالات مختلف انداز میں سامنے آئے ہیں۔
پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط میں بہتری دیکھی اور بھارت اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ کے آثار نظر آئے ہیں۔ اب نئی حکمت عملی کے اجرا کو مبصرین پاکستان کے لیے تزویراتی سانس لینے کی جگہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے 2022کی امریکی دفاعی حکمت عملی میں چین کو سب سے اہم تزویراتی حریف قرار دیا گیا تھا۔ 2026کی دستاویز میں بیجنگ کو ایک وجودی دشمن کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ نئی حکمت عملی میں کہا گیا کہ امریکا چین پر غلبہ پانے، اسے ذلیل کرنے یا اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ نہ تو چین اور نہ ہی کوئی اور ہم پر یا ہمارے اتحادیوں پر غلبہ حاصل کر سکے۔
کہا گیا کہ امریکا ایسا معقول امن چاہتا ہے جو امریکیوں کے لیے سازگار شرائط پر ہو لیکن جسے چین بھی قبول کر سکے ۔ مزید کہا گیا کہ امریکا چین کو تصادم کے بجائے طاقت کے ذریعے روکے گا۔
ایک سینیئر پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ نئے امریکی رویے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کم دباؤ والا بنا دیا ہے۔ سابق سفارت کار عبدالباسط نے کہا کہ میرے نزدیک امریکی حکمت عملی صرف وقت حاصل کرنے کے بارے میں ہے تاکہ چین کا مقابلہ کرنے اور اپنی برتری برقرار رکھنے کے طریقے وضع کیے جا سکیں۔ ٹرمپ ہوشیاری سے کھیل رہے ہیں اور چین اس کھیل کو سمجھتا ہے۔
انہوں نے ’’ دی ایکسپریس ٹریبیون ‘‘ کو بتایا کہ لہٰذا فی الحال ہم دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تناؤ کو ایسی انتہا تک پہنچتے ہوئے نہیں دیکھیں گے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ جب تک یہ صورتحال برقرار رہتی ہے، یہ پاکستان کے لیے اچھا ہے۔
نئی امریکی دفاعی حکمت عملی میں بھارت بھی مکمل طور پر غائب ہے۔ دستاویز میں کواڈریلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ کا بھی کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ بھارت پر زور نہ دینے سے علاقائی عدم توازن کم ہوتا ہے۔
ان مثبت اشاروں کے باوجود تاہم سکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی تزویراتی نظریہ تاریخی طور پر انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ مستقبل میں وائٹ ہاؤس دوبارہ روایتی موقف کی طرف لوٹ سکتا ہے۔