بھارت میں بابا بُلھے شاہ کی 100 سالہ قدیم درگاہ پر ہندوتوا کے غنڈوں کا حملہ

بھارت کے شمالی ریاست اترکاشی کے شہر مسوری میں تقریباً 100 سال قبل صوفی شاعر بابا بُلھے شاہ کی یاد میں بنائی درگاہ کی بے حرمتی کی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے درگاہ میں توڑ پھوڑ کی اور مرکزی حصے میں واقع لائبریری میں مذہبی کتب کو نذر آتش کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ تاریخی درگارہ پر ہندوتوا کے غنڈوں نے رات کے اندھیرے میں داخل ہوکر ہتھوڑے اور لوہے کی راڈوں سے عمارت کو گرانے کی کوشش کی۔

جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے انتہاپسندوں گروہ نے درگاہ کی دیواروں پر بھی اشتعال انگیز نعرے لکھے اور عطیات کے ڈبے سے نقد رقم بھی چرالی۔

پہلے تو پولیس نے روایتی ہٹ دھرمی اور مسلم دشنمی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے صاف انکار کردیا۔

تاہم جب عوامی دباؤ بڑھا اور سوشل میڈیا پر پولیس پر سخت تنقید کی گئی تو نیند سے بیدار ہونے والی مقامی پولیس نے تین افراد ہریوم، شِوا یون اور شرَدھا کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

پولیس نے ایف آئی آر میں ان تین مرکزی ملزمان کے علاوہ 25 سے 30 نامعلوم حملہ آوروں کو بھی نامزد کیا تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔

دوسری جانب ہندو رکھشا دَل کے مقامی سربراہ للت شرما نے حملے کہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی ٹیم نے بلھے شاہ کو پاکستان واپس بھجوا دیا ہے۔

یاد رہے کہ بابا بُلھے شاہ 18ویں صدی کے معروف شاعر، فلسفی اور انسان دوست صوفی تھے جن کی تعلیمات روحانیت، وحدتِ وجود اور محبت پر مبنی تھیں۔

بابا بلّھے شاہ کا مزار لاہور کے نواحی شہر قصور میں واقع ہے جہاں ہر برس ان کا عرس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے تاہم بھارت میں بھی مختلف مقامات پر ان کے نام سے منسوب درگاہیں موجود ہیں۔

 

 

 

Similar Posts