ملتان ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا۔ قدیم آریائی لوگ ہوں یا سکندر یونانی، مغل ہوں یا رنجیت سنگھ یا انگریز سرکار، اس شہر کو کوئی بے آباد نہ کرسکا۔ ملتان کی رونقیں آج عروج پر ہیں، اس کے رہنے والے خوش ہیں اور محبت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ سکندر یونانی کو ملتانیوں نے بہت مارا تھا۔ جنگ تو سکندر جیت گیا تھا مگر ایک دلیر ملتانی کا تیر اس کی کمر میں پیوست ہوگیا تھا اور وہی تیر سکندر یونانی کی موت کا باعث بنا۔
ایک کم زور روایت کے مطابق ’’سی ساترس‘‘ نامی فرعون نے بھی ملتان کو فتح کیا تھا مگر ملتانیوں کی طاقت کے آگے وہ بھی نہ ٹھہر سکا اور یہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ ملتان شہر کی فصیل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیچی ہوگئی ہے لیکن کہا جاتا ہے یہ تقریباً 50 سے 60 فٹ زمین سے بلند تھی۔ خونی برج اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے سکندر اعظم نے حملہ کیا تو یہیں سے دیوار توڑ کر ملتان شہر میں داخل ہوا تھا اور خونی برج اس کو اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں یہاں کا جو گورنر تھا وہ ایک ہندو گورنر تھا اور اس کے پاس ملتانیوں کی ایک دلیر فوج تھی۔ جب انگریز سرکار نے یہاں پر قبضہ کرنا چاہا تو یہاں پر گھمسان کی جنگ ہوئی اور کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے اندر کم و بیش 50 ہزار دونوں اطراف سے لوگ مارے گئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کو خونی برجی اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہاں پر لاشوں کے ڈھیر لگے تھے اور ایک مینار سا بن گیا تھا۔ ملتان جس قلعہ میں آباد تھا اس کا رداس کم از کم دس کلومیٹر تھا اور فصیل اتنی چوڑی کہ اب اس فصیل کے ایک حصے پر باقاعدہ چوڑی سڑک بن چکی ہے۔
ملتان برصغیر کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ تقریباً 6 ہزار سال پر محیط ہے۔ اسے ’’مدینۃ الاولیاء‘‘، ’’سنٹر آف ایشیا‘‘ اور کبھی ’’ملتھا‘‘ یا ’’مولستانہ‘‘ کے ناموں سے بھی جانا گیا۔ ملتان کا شمار وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کے ہم عصر شہروں میں ہوتا ہے۔
قدیم روایات کے مطابق اسے ’’مولو ستھان‘‘ یا سورج دیوتا کا مقام کہا جاتا تھا۔ ملتان میں سورج مندر ہزاروں سال تک مذہبی مرکز رہا۔ آریاؤں کے دور میں ملتان ایک بڑا مذہبی اور تجارتی شہر تھا۔ یہ ہندو شاہیہ اور مقامی راجا سابرا/سابر کے زیرِاثر رہا۔ یونانی مورخ لکھتے ہیں کہ سکندر نے ’’مالی قوم‘‘ کے قلعے پر حملہ کیا جو دراصل ملتان تھا۔ شدید جنگ میں سکندر زخمی ہوا۔ اس دور کے بعد یونانی اثرات کچھ عرصہ قائم رہے۔ ملتان بدھ مت کا بڑا مرکز بنا۔ کُشنا بادشاہ کنشک کے دور میں شہر بہت ترقی یافتہ تھا۔ تجارتی راستے چین، وسط ایشیا اور ایران تک جاتے تھے۔ سفید ہنوں کے حملوں سے ملتان کو شدید نقصان پہنچا۔ شہر تجارت اور آبادی کے اعتبار سے کم زور پڑگیا۔
ملتان کا اصل سنہری دور اسلام کے بعد شروع ہوا۔ محمد بن قاسم نے سندھ اور ملتان کو فتح کیا۔ ملتان کو دارالامان اور مغربی سرحدی صوبہ بنایا گیا۔ سورج مندر کے خزانے کی وجہ سے عرب اسے ’’فرج البنود‘‘ کہتے تھے (یعنی سرحدی قلعہ) تجارت، علم اور فنون کا مرکز بن گیا۔ ملتان بعد میں قرامطی حکومت کا مرکز بھی بنا۔ سورج مندر منہدم ہوا۔ شہر کو اسلامی مذہبی، فکری اور تجارتی حیثیت ملی۔ محمود غزنوی نے ملتان فتح کیا اور قرامطہ کا خاتمہ کیا۔
بعد میں یہ سلسلہ غوریوں اور مقامی حکم رانوں تک پہنچا۔ ملتان اس وقت علماء، صوفیا اور تجارت کا اہم مرکز رہا۔ ملتان کی تاریخ کا روحانی عروج تب ہوا جب یہاں حضرت بہاؤالدین زکریا، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت شاہ شمس سبز واری، حضرت یوسف گردیزی، حضرت شاہ میراں، حضرت شاہ یعقوب جیسے صوفیاء کرام تشریف لائے۔ ملتان پورے برصغیر میں اسلامی تعلیمات، تصوف اور خانقاہی نظام کا سب سے بڑا مرکز بنا۔ ملتان مغل سلطنت کا اہم صوبہ تھا۔ اس دور میں قلعہ کا استحکام، گورنری نظام، شاہی سڑکیں، بازار ترقی کرتے رہے۔ نادر شاہ اور پھر احمد شاہ ابدالی نے ملتان پر قبضہ کیا۔ زیادہ تر وقت یہاں افغان گورنر حکم راں رہے۔
رنجیت سنگھ نے بھی ملتان فتح کیا۔ دیوان ساون مل اور دیوان مول راج کے دور میں قلعے اور شہر کو دوسرا رخ ملا۔ 1848–49 میں ملتان کی جنگ لڑی گئی جو برطانوی قبضے کا پیش خیمہ بنی۔ برطانوی دور جدید شہر کی بنیاد رکھی گئی۔ گھنٹہ گھر، سڑکیں، ریل، نہری نظام، انتظامی عمارتیں اور سرکاری دفاتر قائم کیے گئے۔ ملتان جنوبی پنجاب کا ثقافتی مرکز اور اہم تجارتی شہر ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ جنوبی پنجاب کے نیلے رنگ میں ایسی کون سی کشش ہے، ایسی کون سی مقناطیسیت صلاحیت ہے جو ہر سال اچھے دنوں میں میں اس طرف کھینچا چکا جاتا ہوں۔ عامر بھائی بھی بہت بار کہہ چکے تھے کہ اب کی بار مجھے دوبارہ ملتان آنا چاہیے۔ انھوں نے میرے لیے ایسی ایسی اچھی جگہوں کا انتخاب کر رکھا تھا جو مجھ پاگل کو دیوانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھیں۔ سیاحت خواہ شمال کی ہو یا پھر جنوب کی۔ ایک بات میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سیاحت کا مزہ تبھی ہے اگر آپ اپنی زمین سے جڑے ہیں۔
شمال کی سیاحت کو جائیں تو اگر آپ کا گائیڈ اس علاقے بارے معلومات رکھتا ہو گا تو آپ کو بھی سیاحت کا لطف آئے گا، بالکل اسی طرح اگر آپ جنوبی پنجاب کی سیاحت کو نکلیں اور ساتھ میں اگر نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب کا کھوجی ساتھ ہو تو آپ کی سیاحت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ سال کے آخری مہینے کے موسم تو ہیں ہی جنوبی پنجاب کی طرف سفر کرنے کے۔ آپ ایک بار عامر بشیر کا ہاتھ تو پکڑ کر دیکھیں۔ یہ شخص آپ کو ملتان شہر کی ایک ایک اینٹ ایسے دکھائے گا جیسے شہر اس کے سامنے بنایا گیا ہو۔
آپ تاریخ کی کھوج میں ملتان شہر کی سیاحت کو نکلیں یا پھر فقط اسلامی تعمیرات ہی دیکھنا چاہتے ہوں۔ مقصد ملتان شہر کے پرانے فلمی لوگوں کو کھنگالنا ہو یا ماضی کے پَنوں کو دیکھنا ہو۔ عامر بھائی سے بہتر چوائس اور کیا ہو سکتی ہے۔ ملتان ایک بڑا شہر ہے۔ اس کا مزاج الگ ہے۔ یہ لاہور یا بالائی پنجاب نہیں ہے۔
یہاں آپ کو مساجد اور دربار بھی ملیں گے اور قدیم تہذیبوں کے آثار بھی۔ عامر بھائی ملتان کے مزاج سے واقف ہیں۔ وہ ہر آنے والے سیاح سے بھی چند ہی لمحوں میں واقف ہو جاتے ہیں اور پھر ملتان کو بالکل ایسے ہی کھول کر اس کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ سیاح ملتان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ عامر بھائی نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب اور سندھ کے حوالے سے بھی پروفیشنل گائیڈنس میں ایک بڑا نام رکھتے ہیں۔
میں منہ اندھیرے تقریباً ساڑھے چار بجے ملتان پہنچا تو کم از کم لاری اڈے کے اطراف کا سارا ملتان جاگ رہا تھا۔ موسم میں خنکی تو تھی مگر لطف دے رہی تھی۔ نماز ادا کی اور ایک اچھے سرائیکی ریسٹورنٹ کی طرف چل پڑا۔ ارادہ تو صرف چائے بسکٹ کا تھا مگر ایک مسافر کو پراٹھا چنے کھاتے دیکھا تو ایسا جی للچایا کہ میں نے بھی پراٹھا ہی منگوا لیا۔ واللہ پراٹھا میری توقعات سے زیادہ لذیذ تھا۔ تیل کی مقدار صرف اتنی ہی تھی جتنی پراٹھے کو ضرورت تھی اور چنوں میں تیل بھی انتہائی مناسب۔ پراٹھا اگر ذائقے میں سیر تھا تو بنے سوا سیر جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں سفر میں بھاری پراٹھوں سے بھاگنے والا بندہ پورا پراٹھا ہڑپ کر گیا البتہ چائے ضرورت سے بہت زیادہ میٹھی تھی جس نے منہ کا ذائقہ خراب کیا۔ ابھی چائے پی ہی رہا تھا کہ عامر بھائی پہنچ گئے اور ہم دونوں صبح چھے بجے اپنی پہلی منزل کی طرف چل پڑے جو کہ ہلاکو خان کے پوتے کا مقبرہ تھا۔
بات شاید آپ کو سننے میں عجیب لگے مگر ملتان میں ہلاکو خان کے پوتے کی قبر موجود ہے۔ ایک لکھاری کا کام صرف لکھ دینا ہے۔ خواہ وہ کوئی حکایت ہو یا سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیاں۔
حضرت شاہ شمس سبز واری رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم کا نام سید سید حسن الدین سبز واری (یا بعض روایات میں سید کمال الدین سبز واری) بیان کیا جاتا ہے، تاریخی روایات کے مطابق ان کا قتل ایران کے شہر سبزوار میں ہوا۔
قدیم صوفی تذکروں (مثلاً‘‘تذکرۃ الاولیا’’،‘‘روضۃ الاحباب’’، اور‘‘مناقب شمس سبز واری’’) کے مطابق شاہ شمس کے والد بزرگوار ایک صالح اور عالم سید تھے۔ ایران کے علاقے سبزوار میں اُس وقت بعض باطنی فرقے (باطنیہ / اسماعیلی گروہ) طاقت پکڑ رہے تھے۔ جنہیں اہلِ سنت صوفیاء کے اثرورسوخ سے اختلاف تھا۔ انہی مخالف گروہوں نے سید حسن الدین سبز واری کو تقریباً 1212ء تا 1215ء کے درمیان شہید کردیا۔ اس وقت شاہ شمس جوان تھے، اور اسی سانحے کے بعد انہوں نے سبزوار چھوڑ کر ہجرت کی۔ شاہ شمس نے ایران سے عراق، خراسان، اور سندھ کے راستے ملتان کا سفر کیا۔اسی ہجرت کے بعد وہ‘‘سبز واری’’کے لقب سے مشہور ہوئے۔
احمد تَکودار (Ahmad Teküder) منگول سلطنت کا ایک مشہور حکم راں تھا، جو ایران و عراق کے علاقے میں قائم ایلخانی سلطنت (Ilkhanate) کا دوسرا بادشاہ تھا۔ اس کی خاص اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ پہلا منگول بادشاہ تھا جس نے اسلام قبول کیا۔ پورا نام احمد تکودار (قبل از اسلام: نِکولَی یا تکودار خان) تھا، جس کا دورِ حکومت 1282ء – 1284ء، سلطنت ایلخانی سلطنت (منگول حکومت برِ ایران و عراق) تھا۔ والد ہلاکو خان (چنگیز خان کا پوتا)، مذہب (ابتدائی) بدھ مت یا عیسائیت، مذہب (بعد میں) اسلام (سنّی) احمد تکودار نے اپنے باپ ہلاکو خان کی وفات کے بعد اپنے بھائی اباقا خان کے جانشین کے طور پر 1282ء میں تخت سنبھالا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام ’’احمد‘‘ رکھا۔ روایت کے مطابق، اسے صوفیاء اور مسلم علما سے قربت حاصل تھی۔
بغداد میں اس وقت کے علماء حضرت شاہ شمس سبز واری کے عقائد کے خلاف تھے۔ روایات ہیں کہ شاہ شمس بھی اسی باطنی یا اسماعیل فرقے کی جانب مائل ہوگئے تھے۔ اسی کے پیش نظر احمد تکودار نے ان کو شہر بدر کردیا۔ احمد تکودار حضرت کا عقیدت مند بھی تھا اور ان کو تکلیف پہنچاتے ہوئے ڈرتا بھی تھا لیکن مخالف علماء نے اس کو یقین دلایا کہ اس پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی اور یوں انھوں نے شاہ شمس کو بغداد سے نکلوا دیا۔ شاہ شمس کاظمین چلے چلے گئے چند دنوں بعد احمد تکودار کا بیٹا انتقال کرگیا۔
احمد تکودار نے تمام علماء کو حکم دیا کہ وہ فوراً حضرت سے معذرت کریں اور ممکن ہے میرا شہزادہ دوبارہ زندہ ہوجائے کیوں کہ اس کے دل میں شک بیٹھ چکا تھا کہ ہو نہ ہو یا سب حضرت شاہ شمس کو علاقے سے نکالنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ علماء نے شاہ شمس سے معافی مانگی اور ان کو دوبارہ بغداد لے آئے پھر شاہ شمس نے دعا کی اور وہ شہزادہ زندہ ہوگیا۔ جس پر لوگوں نے ان پر کفر کے فتوے لگا دیے۔ شاہ شمس اب کی بار بغداد سے نکلے تو پھر ہندوستان جانے کا ارادہ کیا۔ احمد تکودار کا بیٹا جو شاہ شمس کا عقیدت مند ہوچکا تھا، وہ بھی ان کے ساتھ ہندوستان آ گیا جس کا نام محمد تکودار تھا۔
دونوں مرید و مرشد ملتان پہنچے تو یہاں ایک کہرام مچ گیا۔ ان پر پتھر برسائے گئے، کھانے پینے کی چیزیں بھی نہ دی گئیں۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی اور حضرت شاہ شمس سبز واری دونوں ہم عصر تھے۔ چوں کہ دونوں کے عقائد ایک دوسرے کے مخالف تھے، اس لیے حضرت بہاالدین زکریا نے بھی شاہ شمس سبز واری کو ملتان میں جگہ دینے سے انکار کردیا۔ بھوک پیاس سے شہزادے کی حالت بہت بری ہوگئی۔ اسی وقت شاہ شمس کی کرامت سے جنگل سے ایک ہرنی برآمد ہوئی۔
اس کو ذبح کر کے گوشت نکالا گیا حضرت نے شہزادے محمد کو کہا کہ شہر جا کر کسی سے آگ مانگ لاؤ تاکہ گوشت پکایا جاسکے لیکن کسی نے آگ نہ دی بلکہ ایک شخص نے شہزادے محمد تکودار کے چہرے پر گرم تیل کا چمچا دے مارا۔ شہزادہ اسی حالت میں شاہ شمس کے پاس آیا اور پھر سورج کے نیچے آنے اور گوشت بھوننے والی داستان وقوع پذیر ہوئی جو آج بھی مشہور ہے (سورج کے سوا نیزے پر آنے کی کہانی بھی آپ سب نے ضرور سنی ہوگی) اور اسی واقعے کے بعد شہرِملتان نے حضرت اور شہزادے کو ملتان میں پناہ دی۔ ہلاکو خان کا پوتا محمد تکودار شاہ شمس کے انتقال کے کچھ عرصے بعد ہی دنیا سے کوچ کرگیا اور مقبرہ شاہ شمس کے مشرق میں قبرستان حاجی بغدادی میں دفن ہوا۔ شہزادے محمد تکو دار کو حاجی بغدادی بھی کہا جاتا ہے اور یہ قبرستان بھی انہی کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت شاہ شمس کے بہت سے عقیدت مند جن کو ان کے بارے میں علم ہے وہ یہاں بھی فاتحہ پڑھنے آتے ہیں لیکن بہت سے ملتانیوں کو اس بارے معلوم نہیں کہ ایک منگول شہزادے ہلاکو خان کے پوتے کی قبر ملتان میں ہے۔
گھنٹہ گھر ملتان
انگریز جب اپنے قدم برصغیر میں جما چکا اور اس بات کا فیصلہ ہوچکا تھا کہ اب برصغیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاجِ برطانیہ کے زیرِاثر ہی رہے گا تو انگریزوں نے اس علاقے کو بھی برطانیہ کی طرح ترقی دینے کا سوچا۔ جیسی منصوبہ بندی انگریزوں نے برطانیہ میں کی، اسی طرز پر برصغیر میں بھی تعمیرات کی گئیں جس کی ایک مثال یہاں کے گھنٹہ گھر ہیں۔ گھنٹہ گھر (Clock Tower) دراصل وقت بتانے اور شہر کے مرکز کی پہچان کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان کی تعمیر کے کئی تاریخی، سماجی، اور عملی مقاصد تھے۔
قدیم زمانے میں جب گھڑیاں عام نہیں تھیں، تو عوام کے لیے وقت جاننے کا سب سے آسان ذریعہ گھنٹہ گھر تھا۔ گھنٹہ گھر کے اوپر بڑی گھڑی نصب ہوتی تھی۔ ہر گھنٹے پر گھنٹی بجتی تھی، تاکہ لوگ دور سے بھی وقت کا اندازہ لگا سکیں۔ نماز، بازار، یا دفاتر کے اوقات اسی سے ترتیب دیے جاتے تھے۔ گھنٹہ گھر عموماً شہر یا قصبے کے مرکزی چوک میں بنایا جاتا تھا۔ یہ شہری شناخت بن جاتا تھا۔ میلوں، جلسوں، یا عوامی تقریبات کا مرکز یہی مقام ہوتا تھا۔ سیاحوں کے لیے راستہ معلوم کرنے میں بھی یہ مددگار ہوتا تھا۔ برطانوی راج کے دوران (19ویں صدی میں) برطانیہ کے تقریباً ہر بڑے شہر میں گھنٹہ گھر بنے ہوئے تھے۔
انگریز حکام نے ہندوستان، پاکستان، اور دیگر نوآبادیاتی علاقوں میں بھی ویسے ہی ٹاور تعمیر کروائے۔ اسے ترقی، نظم، اور وقت کی پابندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ گھنٹہ گھر صرف گھڑی لگانے کے لیے نہیں بلکہ خوب صورت عمارتوں کے طور پر بھی بنائے گئے۔ ان کی بناوٹ میں گوتھک، وکٹورین، یا مغل طرزِتعمیر کے عناصر شامل کیے جاتے تھے۔ یہ اکثر شہر کی سب سے نمایاں عمارت ہوتی تھی۔ گھنٹہ گھر ایسے مقامات تھے جہاں لوگ جمع ہوتے، خبریں سنتے یا اعلانات کیے جاتے۔ بعض جگہوں پر سیاسی تقریریں یا آزادی کی تحریک کے جلسے بھی یہیں ہوتے تھے۔
گھنٹہ گھر ملتان جنوبی پنجاب کی ایک تاریخی اور خوب صورت عمارت ہے، جو ملتان شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ اس کی تعمیر برطانوی دورِ حکومت میں ہوئی تھی، اور یہ نہ صرف ایک انتظامی عمارت تھی بلکہ شہر کا مرکزی نشان (landmark) بھی ہے۔ گھنٹہ گھر ملتان کی تعمیر 1884ء میں شروع ہوئی اور 1888ء میں مکمل ہوئی۔ اس کی بنیاد برطانوی حکام نے رکھی، تاکہ ایک مرکزی عمارت ہو جہاں سے شہر کی انتظامی کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔
یہ عمارت سرخ اینٹوں سے بنی ہے، جو ملتان کی روایتی تعمیرات سے میل کھاتی ہے۔ Victorian اور مقامی مغل طرز کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ اس کے چاروں طرف گھڑیاں نصب تھیں، جو ہر گھنٹے پر گھنٹی بجایا کرتی تھیں — اسی لیے اسے ’’گھنٹہ گھر‘‘ کہا گیا۔ عمارت تین منزلہ ہے اور اس کے درمیان میں ایک برج بنا ہوا ہے۔ ابتدا میں یہاں میونسپل کارپوریشن ملتان کا دفتر قائم تھا۔ بعد میں اسے مختلف سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آج بھی یہ عمارت بلدیہ عظمیٰ ملتان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ گھنٹہ گھر ملتان شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ اس کے اردگرد اہم بازار ہیں، جیسے حسین آگاہی بازار، گھنٹہ گھر چوک، قاسم باغ اور قلعہ کہنہ قاسم باغ بھی قریب ہی ہیں۔ گھنٹہ گھر ملتان نہ صرف شہری زندگی کا مرکز ہے بلکہ سیاحتی مقام بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ عمارت ملتان کی تاریخی و ثقافتی شان کی نمائندگی کرتی ہے۔
رات کے وقت جب اسے روشن کیا جاتا ہے تو اس کی خوب صورتی دو چند ہو جاتی ہے۔ گھنٹہ گھر کے اردگرد جو علاقہ ہے، وہ ’’گھنٹہ گھر چوک‘‘ کے نام سے مشہور ہے — اور یہ ملتان کا سب سے مصروف اور مشہور مقام مانا جاتا ہے۔ آپ اگر گھنٹہ گھر ملتان کے اصل مزے لینا چاہتے ہیں تو ذرا کوشش کر کے اس کی چھت پر جانے کی ضرور کوشش کریں۔
سمادھی دیوان ساون مل
شاید آپ کو میری بات بری لگے مگر تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جب بھی ایک حکم راں کا تحت الٹ کر کسی دوسری قوم یا مذہب کا منانے والا حکم راں بنا تو اس نے پہلے والی کی عبادت گاہوں یہاں تک کہ تاریخی عمارات کی بھی کوئی قدر نہیں کی۔ اس نے اتنا نہیں سوچا کہ یہ تاریخی عمارات خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں، ہیں تو اپنی ہی مٹی کی تو انھیں کیوں کر تباہ کیا جائے۔ رنجیت سنگھ کا بادشاہی مسجد لاہور، مسجد وزیر خان یا دوسری مساجد کے ساتھ رویہ ہو جنھیں جان بوجھ کر اصطبل بنا دیا گیا ہو یا پھر ملتان کے دیوان ساون مل کی سمادھ ہو۔
پہلے ذرا یہ بات ہو جائے کہ دیوان ساون مل کون تھا۔
دیوان ساون مل (Diwan Sawan Mal) برصغیر کے ایک مشہور سول و فوجی منتظم، گورنر اور سکھ دورِ حکومت کے دوران ملتان کے حکم راں تھے۔ وہ مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں نمایاں شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے دورِحکومت میں ملتان میں امن و ترقی کے کام ہوئے۔ دیوان ساون مل کا تعلق ہندو کھتری برادری سے تھا، ان کا خاندان شاہ درہ (لاہور) کے قریب رہتا تھا۔
وہ ایک عام سرکاری ملازم کے طور پر سکھ دربار میں داخل ہوئے لیکن اپنی قابلیت، ایمان داری اور جنگی مہارت کے باعث جلد ترقی پائی۔ دیوان ساون مل نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں ریاست ملتان کی انتظامیہ سنبھالی۔ انہوں نے 1821ء میں ملتان کو فتح کرنے کے بعد یہاں کے گورنر (ناظم) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی حکمرانی میں تجارت، زراعت، نہری نظام اور امن و امان میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے ملتان میں نہر کھدوائی، سڑکیں بنوائیں، منڈیوں کو منظم کیا اور مقامی لوگوں کا اعتماد حاصل کیا۔ ساون مل نے آب پاشی کے نظام کو بہتر بنایا، جس سے کھیتی باڑی میں اضافہ ہوا۔ وہ عوام کے لیے انصاف پسند گورنر مشہور ہوئے۔
ان کے دور میں ملتان میں تجارت کا مرکز قائم ہوا، جس سے شہر خوشحال ہوا۔ 1844ء میں دیوان ساون مل ایک چھوٹی لڑائی کے دوران زخمی ہو کر فوت ہوئے۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے دیوان مل راج نے کچھ عرصہ حکومت سنبھالی، لیکن 1848ء میں انگریزوں کے خلاف بغاوت میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد ملتان برطانوی راج کے قبضے میں چلا گیا۔ دیوان ساون مل کو ملتان کی تعمیر و ترقی کا بانی کہا جاتا ہے۔ دیوان ساون مل ملتان کا وہ حکم راں تھا جس نے قصور ثابت ہونے پر اپنے بیٹے رام داس کو قید کر دیا تھا۔
دیوان ساون مل نے مسجد علی محمد چوک بازار میں گروتھ رکھوایا اور حضرت شاہ شمس سبزواری کے مزار کو گردوارے میں تبدیل کیا۔ دیوان ساون مل نے بدکاری کے خاتمے کے لیے کئی سخت اقدامات بھی کیے کہ لوگ شادی کی طرف آئیں اور بدکاری کا خاتمہ ہوسکے۔ ملتان کے اس مشہور حکم راں کی آخری رسومات معصوم شاہ روڈ (موجودہ ولایت حسین کالج کی حدود) میں ادا کی گئیں۔ دیوان ساون مل کی سمادھی اب بھی کسمپرسی کی حالت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں پر ایک سرکاری ملازم رہائش پذیر ہے۔ سمادھ کے ارد گرد اہل محلہ نے اسے کوڑا کرکٹ کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔
سمادھ کے گرد ایک خوب صورت باغ بھی بنایا گیا تھا جس میں درختوں کی بہتات تھی۔ کھجور کے چند درخت تو ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سمادھی کے اطراف پانی بھی چھوڑا گیا تھا جو سمادھی اور باغ کی خوب صورتی کو بڑھاتا تھا۔ اگرچہ کہ یہ ایک باغ تھا مگر اس کے گرد چھوٹی اینٹ کی بڑی اور مضبوط فصیل کے آثار آج بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ چھوٹی اینٹ سے بنی یہ سمادھی تو آج بھی موجود ہے مگر باغ کو نہ صرف ہم نے اجاڑ ڈالا ہے بلکہ گندگی کے ڈھیر لگا کر اپنی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو بھی ہم نے ساری دنیا کو دکھایا ہے۔
ملتان شہر تاریخی لحاظ سے ایک قدیم قلعہ بند شہر ہے، جسے دفاعی اعتبار سے مضبوط بنانے کے لیے چھے دروازوں سے گھِیرا گیا تھا۔ یہ دروازے مختلف سمتوں میں بنائے گئے تھے تاکہ شہر کے اندر آنے اور باہر جانے کا نظم و ضبط برقرار رہے۔ ملتان کے چھے تاریخی دروازے یہ ہیں۔ دہلی دروازہ، حرم گیٹ، پاک گیٹ، بوہڑ گیٹ، لوہاری گیٹ، دولت گیٹ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان چھے دروازوں میں سے صرف ایک دروازہ ایسا ہے جو کسی دوسرے شہر کی سمت پر بنایا گیا تھا اور وہ تھا دہلی دروازہ۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ دہلی دروازے سے باہر نکلیں اور بالکل سیدھا ناک کی سیدھ پر چلتے جائیں تو آپ دہلی پہنچ جائیں گے۔
خواجہ غلام حسن شہید ملتانی
خواجہ غلام حسن شہید ملتانی جن کا اصل نام منشی غلام حسن تھا۔ 1787ء، محلہ آغا پورہ، ملتان میں پیدا ہوئے اور 1849ء (19 محرم 1265ھ) کو اسی شہر میں انھیں شہید کردیا گیا۔ آپ کو شہیدِ ملتان کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ملتان کے ایک ممتاز صوفی، شاعر، عالم، مصنف، سماجی راہ نما اور بااثر شہری بزرگ تھے جنہوں نے سکھ اور انگریز دور میں ملتان کے سیاسی و سماجی ماحول پر گہرا اثر چھوڑا۔ عربی، فارسی، صرف و نحو، منطق اور فقہ کے بڑے ماہر تھے۔
ان کی شخصیت مذہبی، فکری اور اخلاقی راہ نمائی کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔ خواجہ غلام حسن سرکاری منصب پر فائز نہیں تھے، مگر شہر کے ’’مقطع‘‘، منشی اور اہلِ قلم خاندان سے تھے۔ ان کی رائے شہر کے فیصلوں میں انتہائی اثر رکھتی تھی۔ انہیں ملتان کا غیررسمی لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ انگریز انہیں عوامی مزاحمت کا اصل مرکز سمجھتے تھے۔ اسی پس منظر میں مشہور روایت مشہور ہوئی کہ ’’ملتان کی چابیاں ان کے پاس تھیں‘‘ جو حقیقی نہیں بلکہ علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ سکھ گورنری (1818–1848) میں وہ ملتان کے معززین میں شامل تھے۔ انہیں مقامی سطح پر معتمد علمی و نجی مشیر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ سرکاری حکام بھی ان سے مشورہ لیتے تھے۔
1848–1849 کی اینگلو-سکھ جنگ کے دوران انگریز ملتان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ شہری، مذہبی اور قبائلی حلقوں میں سب سے بڑا اثر خواجہ غلام حسن کا تھا۔ ان کی عوامی قیادت انگریزوں کے لیے رکاوٹ تھی۔ چناںچہ انہیں سیاسی خطرہ سمجھ کر شہید کردیا گیا۔ اسی لیے انہیں ’’شہیدِ ملتان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فارسی اشعار، مناجات، قصائد اور صوفیانہ کلام لکھا۔ ان کا دیوانِ فارسی آج بھی محفوظ ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ الٰہی، اخلاقیات اور روحانیت نمایاں ہے۔ خواجہ غلام حسن کا مزار ملتان شہر میں واقع ہے، جہاں آج بھی عرس منایا جاتا ہے۔ زائرین اور عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں۔ ان کی شہادت کی یاد منائی جاتی ہے۔
خواجہ غلام حسن شہید کی سیاسی اہمیت بنیادی طور پر تین بڑے پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہے۔
٭ ملتان کے مقامی نظامِ اقتدار میں ان کی غیررسمی حیثیت
خواجہ غلام حسن کوئی حکومتی منصب دار نہیں تھے، لیکن وہ بہت بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے گھرانے کے افراد میں منشی، کاتب، مالیاتی و انتظامی امور کے ماہر شامل تھے۔ اسی وجہ سے شہر کے فیصلوں، تنازعات اور حکومتی مشوروں میں ان کی رائے وزن رکھتی تھی۔ اس دور میں علمی و روحانی شخصیات کو سیاسی اسٹیک ہولڈر سمجھا جاتا تھا، اور ملتان میں چند صوفی گھرانے ایسے تھے جن کی سماجی رائے ’’سیاسی فیصلہ‘‘ تصور ہوتی تھی۔ خواجہ غلام حسن انہی میں شامل تھے۔
٭ سکھ حکومت (خصوصاً 1818 تا 1848) کے دور میں ان کی حیثیت
ملتان کے کئی معاملات اہلِ قلم، مقامی عمائدین اور منشی طبقے کے ذریعے چلتے تھے۔ منشی غلام حسن چوںکہ تعلیم یافتہ، عربی و فارسی کے ماہر، اوقاف و مالیات کے امور سے واقف تھے، اس لیے سکھ افسران اور مقامی حکومتی اہلکار ان کی رائے کو اہم سمجھتے تھے۔ ان کی علمی حیثیت + شخصیت + اثر و رسوخ نے انہیں ’’ملتان کا غیر رسمی مشیر‘‘ جیسا مقام دیا۔
٭ انگریزوں کے خلاف مزاحمت میں کردار (شہادت کا پس منظر)
1848–49 میں جب دوسری اینگلو-سکھ جنگ ہورہی تھی، انگریز ملتان پر قبضہ چاہتے تھے۔ اس دوران خواجہ غلام حسن عوام کی حمایت رکھتے تھے۔ سکھ دربار کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے۔ آپ ملتان میں مزاحمت کے علامتی مرکز سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کو شبہ تھا کہ اگر انہیں ختم کر دیا جائے تو ملتان کی مزاحمت ٹوٹ جائے گی۔
اسی عقیدے کے باعث انہیں ’’ملتان کی چابی رکھنے والا‘‘ بھی کہا گیا۔ یہ سیاسی علامت تھا، حقیقی چابی نہیں۔ نتیجتاً انہیں 1849 میں انگریز فورسز نے شہید کیا۔
خواجہ غلام حسن شہید کی سیاسی اہمیت تین نکات میں سمائی جا سکتی ہے۔
1) صوفی و علمی اثر
انہوں نے ملتان کے سماجی و سیاسی ماحول میں ایک بااثر صوفی و عالم کے طور پر کردار ادا کیا۔
2) مقامی اقتدار کا غیر رسمی رکن
وہ شہر کے اہم فیصلوں کے پس منظر میں موجود ایک دانش ور اور بااثر شخصیت تھے۔
3) انگریز مخالف مزاحمت کی علامت