عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ابتدائی ٹرائل کے دوران کچھ گواہان کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا جس سے جیوری غیر منصفانہ طور پر متاثر ہوسکتی تھی اور ملزم کے قانونی حقوق مجروح ہوئے۔
2024 میں سزا، اب فیصلہ کالعدم
یاد رہے کہ رچرڈ براسویل کو 2024 میں اپنی بیٹی کی 12 سالہ سہیلی کے ساتھ نامناسب جسمانی تعلقات کے جرم میں 20 سے 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
یہ بچی کچھ عرصے سے براسویل کے گھرانے کے ساتھ رہ رہی تھی کیونکہ اس کا اپنا خاندان ٹوٹ چکا تھا۔ سزا کے بعد براسویل نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
تاہم بدھ کے روز اپیل کورٹ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور مقدمہ دوبارہ چلانے کا حکم دیا۔ نئے ٹرائل کی تاریخ تاحال مقرر نہیں ہوئی۔
عدالت نے ازسر نو ٹرائل کا حکم کیوں دیا؟
اپیل کورٹ کے بقول استغاثہ نے ایسے گواہ پیش کیے جنہوں نے عدالت میں گواہی دی کہ متاثرہ بچی سچ بول رہی ہے اور وہ ایک ایماندار لڑکی ہے۔
ان گواہوں میں براسویل کی اہلیہ، بیٹی، ایک دوست اور دو مقامی پادری شامل تھے۔
عدالت نے کہا کہ ریاست کے قوانین کے تحت ایسے بیانات صرف اسی صورت میں پیش کیے جا سکتے تھے جب ملزم پہلے متاثرہ بچی کے کردار پر عمومی طور پر حملہ کرتا اور اسے جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔
ججوں نے فیصلے میں مزید کہا کہ حالانکہ ملزم براسویل نے ایسا نہیں کیا تھا اس لیے ان گواہیوں کی اجازت دینا قانونی غلطی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر یہ گواہیاں شامل نہ کی جاتیں تو مقدمے کا نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا۔ ملزم کو اس غلطی سے نقصان پہنچا لہٰذا نیا ٹرائل ضروری ہے۔
نئے ٹرائل کا مطلب الزام کا غلط ہونا نہیں ہے؛ عدالت
عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ الزام غلط تھا یا درست بلکہ یہ کہ ابتدائی ٹرائل میں قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوئی جس کے باعث نیا ٹرائل ضروری ہے۔
مقدمہ اصل میں کیا تھا؟
عدالتی ریکارڈ میں متاثرہ بچی کی شناخت چھپانے کے لیے اُسے ’پینی‘ کا فرضی نام دیا گیا تھا جس نے بتایا کہ مقامی سیاست دان براسویل نے بہانے سے جسم کو کچھ حصوں کو قابل اعتراض انداز میں چھوا۔
پینی نے مزید بتایا کہ ایک دن براسویل نے مجھے اپنے دفتر اکیلے بلایا اور زبردستی کی میں سمجھ گئی تھی کہ یہ غلط ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔
ملزم کا مؤقف
براسویل نے ٹرائل کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ بچی نے یہ الزام ممکنہ طور پر انتقامی طور پر لگایا کیونکہ اس نے بچی کی والدہ کے پروبیشن افسر کو اطلاع دی تھی کہ وہ دوبارہ منشیات استعمال کر رہی ہیں جس کے باعث انہیں جیل جانا پڑا۔
پینی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
سیاسی پس منظر
براسویل ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں جون 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا مگر پانچ ماہ بعد ہی مقامی ووٹرز نے انہیں دوبارہ کمشنر منتخب کر لیا تھا۔
انھوں نے مقدمے کا فیصلہ آنے تک استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا تاہم جب سزا سنائی گئی تو انھوں نے وعدے کے مطابق اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ کیس اب دوبارہ ٹرائل کے لیے جائے گا اور امکان ہے کہ استغاثہ یا فریقین اس فیصلے کو ریاستی سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر سکتے ہیں۔