چیئرمین کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے بتایاکہ گنے سے پیداوار سے ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کامعیار متاثر ہے، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں غیر معمولی کمی کے باوجود اس کی کھپت بڑامسئلہ بن گیا ہے۔
پڑوسی ملک بھارت میں اسکے برعکس حیران کن طور پرکاٹن ایئر 2025-26 کیلیے اپنی کپاس کا پیداواری ہدف مزید بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث گذشتہ چند سالوں کے دوران بیشتر کاٹن زونز میں گنے کی کاشت میں تسلسل سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
نئی شوگر ملوں کے قیام سے ناصرف پاکستان میں کپاس کی کاشت اور مجموعی پیداوار میں ریکارڈکمی واقع ہوئی ہے، بلکہ گنے کی کاشت کے باعث اس سے پیدا ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی سے کپاس کا معیار بھی بری طرح متاثر ہونے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمد کنندگان کا انحصار درآمدی روئی پر بڑھ گیا ہے۔
جس کے باعث پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ایک کروڑ 48لاکھ گانٹھ سے کم ہوکر صرف 55لاکھ گانٹھ تک محدود ہے لیکن اس کے باوجود مقامی کاٹن جنرز اپنے روئی کے ذخائر فروخت کرنے میں ناکام ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ شوگرملز مالکان اپنے گنے کے کاشتکاروں کوکھاد،زرعی ادویات اورزرعی آلات کے نام پر ہر سال اربوں روپے مالیت کے قرضوں کی سہولت دے رہے ہیں، جبکہ رواں سال گنے کی قیمتیں کم از کم 25 فیصد اضافے کے بعد اب 500 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہیں،جس میں مزیداضافے کے بھی اطلاعات ہیں۔
ان عوامل کے باعث خدشہ ہے کہ کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران ملک بھر میں گنے کی کاشت میں اضافہ ہوگا۔