ٹرمپ کی آنکھوں میں مسلسل کھٹکنے والے عبدُل السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالرحمان السید نے سینیٹ کی نشست پر تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
پیشہ ور ڈاکٹر اور ڈیٹرائٹ و وین کاؤنٹی کے صحت کے شعبے کے سابق سربراہ عبدالرحمان السید نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو ایک سخت مقابلے کے بعد شکست دی ہے۔
عبدالرحمان السید کی انتخابی مہم بنیادی طور پر صحت عامہ کی سہولیات اور مشی گن کے شہریوں کے لیے رہائشی و زندگی کے اخراجات میں کمی کے ترقی پسند ایجنڈے پر مبنی تھی۔
اس کے دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے انہیں اسلامی عقیدے، مسلم برادرہوڈ سے مبینہ تعلقات کے الزامات اور اسرائیل جنگ جیسے مسائل پر شدید تنقید کا بھی سامنا رہا۔
انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے مشی گن کا دورہ کر کے انتخابی مہم چلائی، جہاں صدر ٹرمپ نے عبدالرحمان السید پر اسلام مخالف جملے کسے اور ان کے درمیانی نام ’محمد‘ کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تنقید کی، اگرچہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز نے بعد میں ٹرمپ کے ان سخت الفاظ کی توثیق کرنے سے گریز کیا۔
اس کے جواب میں السید نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا نام کیسے پکارا جاتا ہے، کیونکہ نومبر کے بعد صدر ٹرمپ کو انہیں ’سینیٹر محمد‘ کہہ کر ہی پکارنا پڑے گا۔
مشی گن میں مصری مہاجر والدین کے ہاں پیدا ہونے والے 41 سالہ عبدالرحمان السید کو سابق امریکی صدر باراک اوباما اور سابق نائب صدر کملا ہیرس سمیت ڈیموکریٹک پارٹی کی اہم شخصیات کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
ریٹائر ہونے والے سینیٹر گیری پیٹرز کی خالی نشست پر حاصل کی گئی یہ کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، جس کے بعد عبدالرحمان السید سینیٹ کی تاریخ میں پہنچنے والے پہلے مسلم امریکی بن گئے ہیں۔