آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کی کارروائی: 4 آئل ٹینکر اور ایک امریکی ڈرون تباہ، 2 بحری جہاز ضبط

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ممنوعہ گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکرز کو تباہ کردیا، جب کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے دو دیگر بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کارروائی کے دوران ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون بھی مار گرایا گیا، جو اس نوعیت کا 56 واں ڈرون ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ چاروں آئل ٹینکرز نے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ پکڑ لی اور وہ شعلوں کی لپیٹ میں ہیں، جب کہ دو دیگر بحری جہازوں کو روک لیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 30 منٹ پر جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو نشانہ بنایا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اہلکار کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ 4 نومبر امریکا کے لیے 1979ء جیسی ایک اور شکست کا دن ثابت ہوگا۔

ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کردی تھی۔ بعد ازاں جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت ایران اور امریکا نے 60 روز کے لیے آبی گزرگاہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایران نے پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) بھی قائم کی تھی، تاہم تہران کے مطابق امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث اسے دوبارہ آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ کرنا پڑا۔

ایران نے آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے سات شرائط بھی پیش کی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنا، غیر قانونی پابندیاں اٹھانا اور ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

نوٹ: چار آئل ٹینکرز کی تباہی، دو بحری جہازوں کی ضبطی اور امریکی ڈرون مار گرانے سے متعلق تفصیلات پاسدارانِ انقلاب کے اپنے بیان پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ خبر میں موجود نہیں۔

Related posts