ٹرمپ کی دھمکی نہ چلی؛ ایران میں اسرائیل کیلیے جاسوسی پر ایک اور شخص کو پھانسی

ایران کی عدلیہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق حمید رضا ثابت اسماعیل پور کو علی الصبح تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ موساد کے ایک ایجنٹ کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں حمید رضا کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرانی عدالتی ویب سائٹ میزان پر دستیاب معلومات کے مطابق عدالت نے حمید رضا ثابت کو اس جرم میں قصوروار قرار دیا تھا۔

عدالت میں ثابت ہوا کہ ملزم نے ایران کے میزائل مقامات پر تخریبی کارروائیوں میں مدد کے لیے آلات خریدے، دھماکا خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی میں کردار ادا کیا اور خفیہ معلومات اسرائیل تک پہنچائیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اسی نوعیت کے الزامات پر کم از کم 12 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

اس سے قبل 7 جنوری کو علی اردستانی نامی شخص کو بھی موساد کے لیے معلومات فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران پر حملے میں پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی حکومت نے اس پر انکوائری شروع کی جس میں اسرائیل کو معلومات کی درست فراہمی ملک کے اندر سے ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا جس میں درجنوں ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا جن پر اسرائیل کو ان شخصیات اور حساس اداروں کی معلومات فراہم کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج میں گرفتار ہونے والے مظاہرین کو غیر ملکی ایما پر توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے ایسا کیا تو امریکا اس پر بڑا فوجی حملہ کردے گا۔

 

Similar Posts