ریکوڈک مائننگ کے کمیونٹی پروگرام پر قبائل کا عدم اعتماد کا اظہار

نوکنڈی: ریکوڈک مائننگ کے کمیونٹی پروگرام پر قبائل نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا اور مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی تحلیل کی جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ مطالبہ نوکنڈی میں سردار شوکت ایجباڑی، سردار نور بخش کی سربراہی میں قبائلی عمائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ کے تحت قائم کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) پر علاقے کی تمام قبائل نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ نوکنڈی کے تمام قبائلی رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں متفقہ طور پر موجودہ سی ڈی سی منیجمنٹ کمیٹی کو غیر نمائندہ اور عوامی اعتماد سے محروم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آر ڈی ایم سی یا ریکوڈک مائننگ کی موجودہ سی ڈی سی کمیٹی کو علاقے کی کسی بھی قبیلے، طبقے یا عوامی حلقے کی حمایت حاصل نہیں، جس کے باعث ریکوڈک منصوبے سے منسلک عوامی فلاحی پروگرامز اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہو پا رہے۔ ان کے مطابق موجودہ کمیٹی زمینی حقائق سے نابلد ہے اور عوامی مسائل کے حل کے بجائے کمیونٹی پروگرام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی میں موجودہ برسراقتدار جماعت بی اے پی کے بجائے غیر نمائندہ جماعت تحریک انصاف اور تحریک لیبک کے نمائندوں کو شامل کیاگیا جو کے عوامی اعتماد اور حمایت نہیں رکھتے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان بالخصوص نوکنڈی کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کا ایک بڑا موقع ہے، تاہم غیر متوازن اور غیر مقبول نمائندگی پر مشتمل سی ڈی سی کی وجہ سے عوامی اعتماد اور حمایت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جو کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے کے لیے نیک شگون نہیں۔

قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ وہ ریکوڈک مائننگ کمپنی کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی اقدامات کے مشکور ہیں تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ سی ڈی سی منیجمنٹ کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کر کے ایک نئی، متوازی اور بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں نوکنڈی کی تمام قبائل، مکاتبِ فکر اور عوامی طبقات کی حقیقی نمائندگی شامل ہو، تاکہ ریکوڈک سے حاصل ہونے والی مراعات کو شفاف، منصفانہ اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

آخر میں قبائلی رہنماؤں نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کے اعلیٰ حکام، بالخصوص چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عوامی اعتماد کی بحالی اور کمیونٹی پروگرام کی ساکھ کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

Similar Posts