اس ضمن میں وزیراعظم شہبازشریف نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا،دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
گفتگو میں پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی قریبی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کے تحت اعلیٰ سطح روابط اور باہمی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے،دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
دوسری طرف پاکستان امریکہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں صرف تہران تک ہی محدود نہیں،پاکستان نے ورلڈ اکنامک فورم سمیت دیگرفورمز پربھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے،وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی عہدیداروں سے بھی اس مسئلے پربات کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیارنہ بنانے کا معاہدہ کرے یا پھراسے نتائج بھگتنے کیلئے تیارہوجانا چاہیے۔
امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کیلئے اپنا بحری بیڑا بھی خلیج میں پہنچا دیا ہے۔پاکستان کو خطے کی اس بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش ہے۔
گزشتہ روز دفترخارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ واربریفنگ میں ایران پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادلوں کے بارے میں بتایا کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے سفارتی حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں،ہماری نظر میں مشرق وسطیٰ کا خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے خطے کی اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام بڑی طرح متاثرہوگا۔
ہم اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔غزہ اورفلسطین کے مسئلے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کا ذکرکرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی ہے، پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
بورڈ آف پیس کوابراہیمی معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے ، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا،غزہ کی تعمیر نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ اورمسئلہ فلسطین کیلئے امید کی کرن ہے۔اس میں پاکستان اکیلا نہیں شامل نہیں بلکہ7دیگر مسلم ممالک سعودی عرب، مصر، اردن،یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا ۔پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے کہا کہ 2برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔
بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12ارب یورو سے زیادہ ہے اور پاکستان کو GSPپلس کی سہولت دی گئی ہے۔
ترجمان نے انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ سے انکارکردیا۔انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی ہے، اجلاس میں ابوظہبی کی سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔
صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کیلئے جاری ہونے والی ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے محفوظ اور کھلا ملک ہے۔
امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت جاری ہے،امید ہے پاکستان کو جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا اس ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا قازقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آور کی شمولیت ایک پیٹرن ہے، اصل میں افغان شہری پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔