پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس سانحے پر سندھ حکومت سے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے اپنا کارنامہ یاد دلایا کہ لاہور میں کثیر المنزلہ ہوٹل میں لگنے والی آگ کو قابو پانے میں پانچ منٹ کے مختصر وقت میں ریسپانس دیا گیا۔ سندھ حکومت ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات نہ کروا کر اور ایک ماتحت افسر سے اس سانحے کی تحقیقات کروا کر اس سانحہ کو فائلوں میں چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ماتحت افسر کی تحقیقات کا دائرہ بہت محدود ہوگا۔
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں سے پورے معاملہ کی تحقیقات کرانے کے مطالبہ کو رد کرنے سے پوشیدہ حقائق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے ماتحت وزراء کو اپنی قیادت میں ایک کمیٹی میں شامل کرکے اس معاملے کی اہمیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ، مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ احساس نہیں کہ کچھ قوتیں کراچی شہر کو ایک نئے فساد کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے چند ہفتے قبل ایوانِ صدر میں سندھ کی ترقی کا روشن چہرہ پیش کرنے کی غرض سے پریزنٹیشن دی۔ اس حادثے کے بعد یہ پریزنٹیشن فضاء میں تحلیل ہوگئی۔ یہ سوال پھر روزِ روشن کی طرح سیاسی منظرنامہ پر برسوں تک موجود رہے گا کہ اگر اس دفعہ ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، مستقبل میں ایسے سانحات کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ تاریخی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے کراچی میں شہریوں کو ٹرم وے کی جدید سہولت فراہم کرنے کے لیے 1815میں محمدی ٹرام وے کمپنی کو لیز دی تھی۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے 1975 میں ٹرام سروس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
کمپنی نے ٹرام کے اسپیئر پارٹس نیلام کر دیے اورکاروبار ختم کر کے زمین کراچی میونسپل کارپوریشن کو منتقل کردی گئی۔ 80 کی دہائی میں جب جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کراچی کے میئر بنے تو اس زمین کی فروخت کا معاملہ شروع ہوا۔ میئر افغانی نے اس زمین کی خرید و فروخت اور اس پر کمرشل پلازہ تعمیرکرنے کی اجازت دیدی۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے زمین کی لیز کی منتقلی کے دستاویز پر دستخط کیے۔ گل پلازہ کی عمارت 1995 میں تعمیر ہوئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کا قیام عمل میں آیا اور جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے بااختیار ناظم بن گئے۔ ان کے دورِ نظامت میں گل پلازہ کی تعمیر کے حتمی مراحل مکمل ہوئے۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تین منزلہ کمرشل عمارت کی تعمیر کی منظوری دی مگر پھر کرپشن کا کلچر مضبوط ہوا۔ گل پلازہ کی انتظامیہ نے تینوں منزلوں پر نقشے سے ہٹ کر دکانیں تعمیرکرنی شروع کیں۔ اصل اجازت 500 دکانوں کی تھی پھر یہ تعداد 1200 تک پہنچ گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق میزنائن پر سب سے زیادہ 190 دکانیں تھیں اور جب آگ لگی تو خریداروں کا سب سے زیادہ رش اسی منزل پر تھا۔ ایک پولیس افسرکا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں اسی منزل پر ہوئیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس منزل سے سب سے زیادہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس منزل پر ایک بڑی دکان تھی جہاں سے 30 کے قریب لاشیں ملیں۔ اسی طرح بیسمینٹ میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ گل پلازہ کے دکانداروں کی انجمن بہت فعال تھی۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہر دکان سے ہر ماہ 5 ہزار سے زیادہ چندہ وصول کیا جاتا تھا جو رقم سالانہ کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔
اس انجمن نے نقشہ سے ہٹ کر دکانیں قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عمارت کے 16 دروازوں میں سے بیشتر بند ہوگئے تھے۔ ایک خریدار کا کہنا ہے کہ بازار بند کرنے کا سرکاری وقت رات 8 بجے ہے مگر یہ روایت ہے کہ 9 بجے کے بعد ہر شاپنگ سینیٹر کے دروازے بند کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو رات 11 بجے تک مکمل ہوتا ہے۔ بعض شاپنگ سینیٹروں میں دکانیں مکمل طور پر بند ہونے کا سلسلہ 12 تک چلا جاتا ہے۔
نامعلوم وجوہات کی بناء پر عمارت کی کھڑکیاں بند تھیں، اگر تمام کھڑکیاں اور دروازے کھلے ہوتے اور ہوا کے گزرنے کا فطری راستہ موجود ہوتا تو اموات کی شرح بہت کم ہوتی۔ گل پلازہ میں بجلی کا نظام مخدوش حالت میں تھا، اگر بجلی کا جدید نظام موجود ہوتا تو پھر اس منزل پر بجلی بند ہوتی جہاں پہلے آگ لگی تھی جب کہ دیگر منزلوں میں بجلی کی سپلائی برقرار رہتی تو بہت سے لوگ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجاتے۔
یہ بات واضح ہے کہ نہ تو عمارت میں فائر الام تھا، نہ ہی آگ بجھانے کا جدید نظام موجود تھا اور نہ ہی ہنگامی صورتحال میں عمارت سے باہر نکلنے کے راستے موجود تھے مگر 2026 میں ان حقائق پر بھی ماتم کرنے کی ضرورت ہے کہ بلدیہ کراچی کا ریسکیو کا نظام انتہائی فرسودہ ہے۔ کے ایم سی کے فائر بریگیڈ کے عملے کو جدید طریقوں کے مطابق کبھی تربیت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ گل پلازہ سے چند میل پر دو بڑے فائر اسٹیشن موجود ہیں۔ ایک کے ایم سی ورکشاپ کے پاس قدیم فائر اسٹیشن ہے اور دوسرا صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب ہے مگر ان فائر اسٹیشن پر بجلی موجود نہیں تھی۔
فائر ٹینڈر میں پانی نہیں تھا، اگر فائر بریگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہوتا، اس کے پاس جدید ترین آلات ہوتے، فائر ٹینڈرز میں وافر مقدار میں پانی ہوتا اور جدید کیمیکل سے تیارکردہ فوم ہوتا۔ فوری طور پر عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے کھولنے کے لیے اقدامات ہوتے اور یہ سب کچھ پہلے 3گھنٹوں کے دوران ہوتا تو بہت کم نقصان ہوتا۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی آگ کو قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جاتے تو بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا جب امدادی سرگرمیاں ایک سنگل کمانڈ کی نگرانی میں کی جاتیں اور جدید ترین طریقوں کو بروئے کار لایا جاتا ۔
عجیب بات ہے کہ اس جدید دور میں امدادی کارکنوں کو عمارت کے کچھ حصوں میں داخل ہونے کے لیے 23 گھنٹے لگے اور 33 گھنٹوں میں آگ پر کسی حد تک قابو پایا جاسکا۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروس والوں کی یہ شکایت درست ہے کہ ہزاروں افراد گل پلازہ کے گرد جمع رہے جن کا امدادی کاموں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان افراد کی موجودگی کی بناء پر امدادی کاموں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ شہر کی 500 سے زیادہ عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام موجود نہیں ہے اور فائر بریگیڈ کے پاس چار منزل سے زیادہ اونچائی پر آگ بجھانے کے لیے جدید آلات نہیں ہیں۔
کراچی میں گزشتہ سال آتشزدگی کے 2500 کے قریب حادثات ہوئے۔ ایک اور المیہ کہ مرنے والے افراد کے لواحقین دس دن تک سول اسپتال اور ڈی سی ساؤتھ کے دفتر کے چکر لگاتے رہے مگر ان کے پیاروں کی باقیات کے بارے کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا، یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت نے دکانداروں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے مگر خریداروں کے لواحقین کی تلافی کے لیے کچھ نہیں کہا گیا، ان کے لواحقین کو بھی اتنا ہی معاوضہ ملنا چاہیے کہ جتنا دکانداروں کے لواحقین کو ملے گا، آج یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ بازار سردیوں میں شام چھ بجے اورگرمیوں میں شام سات بجے بند کیوں نہیں ہوسکتے۔
اب گل پلازہ کی آتش زدگی کے بعد بھی گزشتہ 10، 12 دنوں میں کراچی شہر میں آتش زدگی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 26 جنوری کو ایک اسکول کی عمارت میں اچانک آتشزدگی کے نتیجے میں ایک نوعمر بچہ جاں بحق ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ گل پلازہ کی آتشزدگی کی وجوہات اور ذمے دار افراد کا محاسبہ پر زور دینے کے بجائے 18ویں ترمیم کی خامیوں اور کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کی بحث شروع ہوگئی ہے جو بے معنی ہے۔ کراچی کا مسئلہ وفاق کی تحویل میں دینے سے نہیں بلکہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام اور ایک سپر میونسپل کارپوریشن کے قیام سے ہی حل ہوگا۔
یہی وقت ہے کہ بلدیہ کراچی کی حد پورے شہر پر ہونی چاہیے۔ کونسلر اور یونین کونسل کو بااختیار ہونا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ٹریبونل قائم کرنا چاہیے، اس ٹریبونل میں سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز کو شامل کرنا چاہیے اور اس ٹریبونل کی رپورٹ پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے۔ بالآخر سندھ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک حاضر جج کو مقررکیا جائے تاکہ وہ قانونی طور پر انکوائری اور جائزہ لیں، لیکن یہ مسئلہ اتنا سنگین و حساس ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کے معزز جج کی نگرانی میں ایک کمیشن قائم نہیں کیا جائے گا،اصل حقائق سامنے نہیں آسکیں گے۔