مولانا فضل الرحمن اس بات پر سخت برہم تھے جو حکومت نے گزشتہ سال قانون کے ذریعے 18 سال کی عمر تک کے نوجوانوں پر شادی کرنے کی پابندی عائد کی تھی جس پر مولانا فضل الرحمن نے احتجاج اور اس پابندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا تھا۔ دیگر علما نے بھی یہ قانون غلط قرار دیا تھا۔
موجودہ گھریلو تشدد ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر مولانا فضل الرحمن نے دس سال کے جوانوں کی شادیاں کرانے کا اعلان کیا تھا جو مذکورہ قانون کو نہ ماننے اور اس کی خلاف ورزی کرنے کا کھلا اعلان تھا۔جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ اگر مجھے غصہ آ گیا تو میں 16 سال کی لڑکی سے شادی کروں گا۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیا کہ وہ قرآن و سنت کے منافی اس حکومتی قانون کے خلاف چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور ان نوجوانوں کی شادیاں کرائیں جو بالغ ہو چکے ہیں اور ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔
حافظ حمداللہ نے حالیہ منظور شدہ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کی بھی مخالفت کی۔مولانا فضل الرحمن اور حافظ حمداللہ وفاقی دارالحکومت میں نہیں رہتے اور اس ایکٹ کا کوئی ذاتی نقصان بھی نہیں ہے مگر دونوں 18 سال عمر کی پابندی کے سخت خلاف ہیں اور دونوں نے مذکورہ منظور شدہ قانون کی خلاف ورزی کا اعلان کیا ہے جو ان کے نزدیک شریعت کے خلاف ہے جسے مذہبی حلقے تسلیم نہیں کر رہے۔ حکومت کے نزدیک 18 سال کی عمر کے بچے ہی بالغ ہوتے ہیں اور کم عمری کی شادی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ملک بھر میں خصوصاً دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں کم عمر میں شادی معمول کی بات رہی ہے اور ظاہر ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ جان کر کہ ان کے بچے کم عمری میں بالغ ہو چکے ہیں، ان کی شادیاں کرا دیتے ہیں مگر حکومت یہ نہیں مانتی اور قانون کے مطابق شادیاں اٹھارہ سال کی عمر مکمل ہونے پر ہی ہونی چاہیے جو قانونی ہوگی۔
حکومت اور کم عمری کی شادی کا قانون بنانے والوں کو پتا نہیں ہے کہ ملک میں بھینسوں کے باڑوں میں بھینسوں کا دودھ بڑھانے کے لیے بھینس مالکان بھینسوں کو وہ ممنوعہ انجکشن ضرور لگواتے ہیں جو کم عمری میں بچوں کی بلوغت کا باعث بن رہا ہے۔ ممکن ہے اس قانون بنانے والوں کو انجکشن کے ذریعے زیادہ دودھ کا کوئی نقصان نہ ہوا ہو اور وہ یہ مضر صحت دودھ استعمال ہی نہ کرتے ہوں۔ کراچی کے ایک بھینس باڑے کے مالک نے چند سال قبل راقم سے یہ اعتراف کیا تھا کہ یہ درست ہے کہ انجکشن کے ذریعے بڑھائے گئے دودھ سے خاص طور پر بچیاں وقت سے قبل بالغ ہو رہی ہیں اور ایسا دودھ نقصان دہ بھی ہوتا ہے جس سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
صوبائی حکومتوں کو بھی اس نقصان دہ دودھ کا پتا ہے اسی لیے بھینسوں کے باڑوں میں دودھ بڑھانے کے انجکشن پر یہ پابندی بھی لگی تھی مگر ایسے قانون کو کون مانتا ہے جس پر عمل کرانے میں خود حکومت ہی سنجیدہ نہیں ہے۔ملک میں ایسے پریمی جوڑوں کی خبریں روزانہ ہی اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں جو کم عمری میں اپنے ماں باپ کی مرضی کے خلاف گھروں سے بھاگ کر عدالتوں میں جا کر کورٹ میرج کر لیتے ہیں جس پر لڑکیوں کے والدین مذکورہ لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہیں کہ ان کی بیٹی بالغ نہیں اور اس کی عمر 18 سال سے کم ہے جسے ورغلا کر یا اغوا کرکے شادی کی گئی ہے جو غیر قانونی ہے۔
مذکورہ پسند کی شادی کرنے والے یا ان کے والدین کا موقف ہوتا ہے کہ ان کی عمریں 18 سال ہیں جس کے ثبوت کے لیے ڈاکٹروں کو رشوت دے کر 18 سال کی عمر کے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے جاتے ہیں جس کے بعد عدالت ہی کوئی حکم جاری کرتی ہے۔حالیہ ڈومیسٹک وائلنس قانون کے سلسلے میں پی پی کی خاتون سینیٹر سے پوچھا گیا کہ کیا اب مردوں کو کالے چشمے لگانا پڑیں گے کہ ان کا گھورنا خواتین کو نظر نہ آئے تو جواب مذاق میں دیتے ہوئے کہا گیا کہ گھورنے کے الزام سے محفوظ رہنے کے لیے مرد وہ کریں جو کام کے وقت بیلوں کی آنکھیں چھپانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
حکومت نے کبھی گھریلو تشدد کے معاملات جاننے کی وجوہات پر توجہ ہی نہیں دی۔ گھریلو تشدد اور شوہر کی بیوی کو مختلف دھمکیاں معمول اور بیویاں مجبور ہیں۔ وہ اپنے گھریلو معاملات اور شوہر سے متعلق شکایات اکثر گھر سے باہر نہیں آنے دیتیں تو کیا وہ اپنا گھر توڑنے کے لیے حالیہ قانون کی مدد لیں گی یہ اکثر ممکن نہیں ہوگا۔ کیا حکومت اسی قانون کے نتیجے میں علیحدہ ہو جانے والی خواتین اور ان کے بچوں کی کفالت کی ذمے داری لے گی اس کا نئے قانون میں کوئی ذکر نہیں۔ اس قانون کی مدد مجبوری ہی میں لی جائے گی تاکہ علیحدگی ہو۔
ہر بیوی اپنا گھر بچانے کی شوہر سے زیادہ کوشش کرتی ہے۔ حکومت نے جو قانون بنایا ہے وہ حقائق کے برعکس صرف مذاق ہی بنے گا کیونکہ یہ قانون گھریلو تشدد روکنے میں ناکافی ہے جس میں نہ بیویوں کو اپنا تحفظ نظر آئے گا کیونکہ وہ شوہر کے آگے مجبور ہیں۔ قانون سے شوہر کو 3 سال سزا ہوئی تو بیوی کس طرح گھر سنبھالے گی؟