قصہ خوانی یا کسی خوانی

قصہ خوانی، پشاور کا بڑا مشہور بازار ہے اور یہ جتنا مشہور بازار ہے اتنے ہی اس کے بارے میں’’قصے‘‘ مشہور ہیں کہ اگلے زمانوں میں وسطی ایشیا سے تاجروں کے قافلے جب ہندوستان آتے جاتے تھے تو یہاں کے سرائیوں میں قصے کہانیاں چلتی رہتی تھیں۔حالانکہ یہ سب جھوٹ بلکہ’’قصے‘‘ ہیں ایسا کچھ بھی نہ تھا نہ ہیں، نہ تاجر ٹھہرتے نہ قصے ہوتے تھے اور نہ ہی اس کا نام ’’قصہ خوانی‘‘ تھا، نہ یہی مفہوم یہ رکھتا ہے، قصے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، کہ جن تاجروں اور قافلوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ نمک منڈی اور ڈبگری میں ہوا کرتے تھے۔

کیونکہ قافلے ان تاجروں کے ہوتے تھے جن کے ساتھ اونٹ، گھوڑے، گدھے یعنی جانور بھی بڑی تعداد میں ہوتے تھے جب کہ قصہ خوانی ایک تنگ اور گنجان علاقہ ہے اور ان جانوروں کی ’’پارکنگ‘‘ کے لیے قطعی ناموزوں ہے ، تاجروں کے وہ قافلے نمک منڈی ڈبگری اور بھانہ ماڑی کے علاقوں میں ٹھہرتے تھے۔ جن کے ساتھ کھلی زمین بھی موجود تھی۔اور یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں آج سے پچاس ساٹھ پہلے تک یہی مقامات اس تجارت کے مراکز تھے۔ ڈرائی فروٹ کے گودام اور دکانیں ہم نے خود دیکھی ہیں بلکہ کچھ آثار اب بھی موجود ہیں۔اور وہ مال بھی جو یہاں سے وسطی ایشیا یا افغانستان کو جاتا تھا اور یہ نام قصہ خوانی بھی قصہ خوانی نہیں بلکہ اصل میں’’کس خو‘‘ اور کس خوانی بلکہ’’کسی خوانی‘‘ہے اس ’’کسی‘‘ کا قصہ تو بعد میں سنائیں گے، پہلے اس’’قصے‘‘ کا قصہ تمام کرتے ہیں کہ یہ ’’کس‘‘ یا کسی سے’’ قصہ‘‘ کیسے ہوگیا اور کیوں کر ہوا۔

ہوا یوں کہ جب اسلام کے بعد یہاں ایک طویل دور حکومت محمود غزنوی سے شروع ہوا وہ ایک مفرس اور معرب دور تھا، مساجد میں جو پیشہ ور ملا اور اخوند ہوتے تھے وہ اصل میں کوہستانوں سے آنے والے’’چھڑے‘‘ ہوتے تھے جنھیں پشتو میں’’چنڑے‘‘ بولا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو مسجدوں کو ٹھکانہ بنا لیتے تھے، مزدوریاں بھی کرتے تھے، اور رہائش کا جواز پیدا کرنے کے لیے کچھ دین کا شُد بُد بھی سیکھ لیتے تھے، قرآن ناظرہ،چند سورتیں، چند دعائیں، چند رسوم اور بہت ساری اسرائیلات پھر آہستہ آہستہ یہی لوگ مساجد میں امام بھی بن جاتے تھے، لفظ’’چنڑے‘‘ کا مطلب تو طالب ہوتا تھا لیکن اس کا مفہوم’’کنورا‘‘ بھی ہوگیا۔پنجابی میں یہ ’’چھڑے‘‘ ہی کہلاتے ہیں

رنا والہاں دے پکن پروٹھے

تے چھڑیاں دی آگ نہ پلے

آتا جاتا تو ان کو کچھ نہیں تھا لیکن خود کو’’عالم‘‘ ظاہر کرنے کے لیے الفاظ کو حلق کی گہرائی سے ادا کرتے تھے اکثر مقامی الفاظ کو بھی حلق میں’’غوطے‘‘ دے کر نکالتے تھے، یہاں تک کہ روپیہ کو’’روفیہ‘‘ پشاور کو فشاور کہتے تھے، یہاں قُتا بلکہ’’قطعا‘‘ کار کو ’’قار‘‘ اور ہوا کو حوا بولتے تھے ، رنگ کو رفنگ، سحر کو سغر، ہر ہر کو غرغر، کاکا کو قاقا، کھجور کو قجور کہتے تھے ۔اسی طویل نیم ملائی نیم حکیمی بلکہ ’’چنڑی‘‘ دور میں اسپاسی یوسف زئی ہوگئے، اپریتی آفریدی ہوگئے، مسیت محسود ہوگئے، مہامنت مہمند ہوگئے، خٹک خطک بلکہ خطق ہوگئے۔اور ’’کسی‘‘ بھی قصہ ہوگیا۔کیونکہ ’’کسی‘‘ لفظ میں علمیت کا اظہار نہیں ہوتا ہے جب کہ ’’قصہ‘‘ لفظ میں ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے پشاور کے ایک ہومیو پیتھک کالج میں کوئی تقریب تھی۔

مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ خطیب تھے جو تھے کسی پہاڑی علاقے کے لیکن پشاور میں آکر جم گئے تھے، پہلے چنڑے رہے پھر ملا اور پھر اپنے کمال سے ڈسٹرکٹ خطیب۔ وہ اپنے خطبے میں اول سے آخر تک ہومیو پیتھک کو ’ خموفطق‘ بتاتے رہے ۔ایک اور چشم دید واقعہ ایک میڈیسن کی دکان میں پیش آیا۔ایسے ہی ایک صاحب لامینو فائلین دوائی کو عمین الفاعلین کہتے رہے، کیپسول کو کفسول بتاتے رہے اور ٹیبلٹ کو طالبوط بولتے رہے۔ لطیفہ ہے کہ ایک ایسے ہی صاحب اپنی بیوی بلکہ زوجہ بلکہ ’’زوجہا‘‘ کو گالیاں فرماتے تھے تو بعض الفاظ کو’’حلق‘‘ میں ڈبو کر نکالتے تھے، ایک دن بیوی نے کہا تم خوا مخوا سیدھے سادے الفاظ کو اتنا بھاری بھر کم کیوں کرتے ہو۔ فرمایا میں تمہارے لیے اپنی لغت نہیں بگاڑ سکتا۔اب’’کسی‘‘ کا قصہ۔لفظ’’کسی‘‘ اس اونچی زمین کو کہتے ہیں جہاں بارش کا پانی ٹھہرتا نہ ہو اور نیچے بہہ جاتا ہو اس بہنے والے پانی کے نالے کو’’کسی‘‘ کہتے ہیں۔ہری پور ہزارہ بلکہ ہزارہ اور ضلع اٹک کے درمیان حدفاضل میں ایک’’کسی‘‘کو ’’جاری کسی‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اب اس میں سیم کا پانی بھی بہتا ہے۔

جاری کسی کا لغوی مفہوم ٹھیک وہی ہے جو مردان کے ایک علاقے لوند خوڑ کا ہے۔یعنی تر یا پانی والا خوڑ ۔ خان غلام محمد یہاں کے بڑے مشہور مسلم لیگی لیڈر تھے جنھیں اردو والے ’’لونڈ خور‘‘ لکھتے اور بولتے تھے۔ فارسی میں یہ’’کسی‘‘ کوہ ہوگیا ہے آگے پھر قبہ، قو، قاز اور قاف بھی بنا ہے۔ پارسیوں کے مذہبی اوویستا میں یہ ’’کوف‘‘ ہے اور آگے پھر یہ کاسک کاسکستان اور کاسین بھی ہوا ہے۔لیکن جیسے ہندی سے ’’دیہہ‘‘ ماس سے ماہ ، پیست سے ہیت،دس سے دہ۔اور سند سے ہند۔اسی طرح ایک اور لہجے اسے (ش) سے بدلا جاتا ہے چنانچہ کس،کوہ اور کش۔ مسر،مہر اور مشر۔اسی طرح سیندوکس سے بھی ’’ہندوکش‘‘ ہوگیا ہے۔اس’’کس‘‘ سے بہت ساری زبانوں کے بہت سارے الفاظ بنتے ہیں۔ کاسہ۔ کسان،کسوڑہ(تھیلی) کسوت وغیرہ۔ فارسی میں کس کا مفہوم کھینچنے کا ہے جیسے کمرکسنا،کس کے باندھنا۔ غالب نے کہا ہے

ہے کیا جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرے

کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

چنانچہ اردو لفظ’’کھینچ‘‘بھی اسی’’کس‘‘ سے نکلا ہے۔ پختونخوا میں ایسے بہت سارے مقامات ہیں جو ’’کس‘‘ کا لاحقہ لکھتے ہیں۔ مردان میں ایک گاؤں کس کورونہ ہے جو اب مردان شہر میں آگیا ہے، اسی طرح کس ناکہ۔کس ڈیری کس کلے اور کس کندے۔ ’’کس‘‘ اور کسی میں چونکہ پانی جمع ہوکر بہتا ہے، اس لیے اس میں’’جمع‘‘ کے معنی بھی شامل ہوگئے ہیں چنانچہ انگریزی میں یہ کیس۔سوٹ کیس،بریف کیس، سگرٹ کیس وغیرہ ہے اور لفظ ’’کیش‘‘ کیشئر میں بھی۔بہرحال قصہ خوانی اصل میں کسی خوانی ہے ’’کسی کے کنارے‘‘ جو پہلے بھی اس کسی کے کنارے تھا اور اب بھی ہے۔لیکن کسی کا قصہ ہوگیا ہے، یہ کسی بہت دور سے بارش کا پانی لے کر آتی ہے اور کسہ خانی اس کے کنارے آباد ہے، یہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن اب اس میں گندہ پانی بہتا ہے۔ فارسی میں جیب کو بھی ’’کیسہ‘‘ کہتے ہیں اور جیب کترے کو ’’کیسہ بُرد‘‘ لیکن اب وہ بھی قصہ برد ہوگیا ہے۔اور یہ دونوں ہی پشتو میں ’’قصہ بڑ‘‘ کہلاتے ہیں جیب تراش بھی ’’قصہ بڑ، اور قصہ سنانے والا بھی قصہ بڑ۔

Similar Posts