دوسری طرف پاکستان امریکا کے ساتھ بھی رابطے میں ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا معاہدہ کرے یا پھر اسے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آیندہ بھی ہوگی۔
عالمی سیاست ایک مرتبہ پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں معمولی سی لغزش بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کو بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کا آغاز ایک مثبت اور ذمے دارانہ قدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خود کو علاقائی اور عالمی امن سے الگ تھلگ نہیں سمجھتا بلکہ ایک فعال اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط پر زور دینا محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی تصادم میں بدلتی ہے تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی لپیٹ میں پورا خطہ آ سکتا ہے۔ خلیجی ریاستیں، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان کی اپنی معاشی اور سلامتی کی صورتحال اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں سے تناؤ کا شکار ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی نے جڑ پکڑی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ خلیج مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی محاذ آرائی، خفیہ آپریشنز اور بالواسطہ جنگیں اس کشیدگی کی مختلف صورتیں رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو لے کر یہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ ایران بارہا، اس بات کی تردید کرتا رہا اور کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی سخت دھمکیاں اور ایٹمی معاہدے کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے معاہدے پر رضامند ہونا ہوگا یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکی کے مترادف ہے۔ اگرچہ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکا فوجی کارروائی سے گریز کو ترجیح دے گا اور بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، مگر طاقت کے مظاہرے اور بحری بیڑے کی روانگی جیسے اقدامات فضا میں تناؤ کو کم کرنے کے بجائے بڑھاتے ہیں۔
پاکستان اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور مذہبی و ثقافتی اشتراک پر مبنی ہیں۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی کے منصوبے اور علاقائی استحکام دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات میں شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی طویل اور پیچیدہ رہے ہیں، جن میں تعاون، اختلاف، اعتماد اور بداعتمادی سب شامل رہے ہیں۔
ایسے میں پاکستان کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا آلہ کار بننے کے بجائے ایک متوازن اور خود مختار خارجہ پالیسی پر عمل کرے۔ پاکستان کی قیادت بخوبی سمجھتی ہے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے فیصلے عارضی ثابت ہوتے ہیں اور بالآخر نئے تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں فوجی مداخلت نے استحکام کے بجائے تباہی، انتشار اور انسانی المیے کو جنم دیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں یہی خدشہ موجود ہے کہ اس کے نتائج طویل المدت اور دور رس ہوں گے۔
پاکستان کا یہ مؤقف کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑے گا۔ پاکستان جو پہلے ہی معاشی چیلنجز، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، کسی نئے علاقائی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کو ظاہر کرتی ہے جہاں تجارتی، سفارتی اور عسکری محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایران اور امریکا کا تنازع بھی اسی بڑی تصویر کا ایک حصہ ہے جس میں طاقت کا توازن، اثر و رسوخ اور عالمی قیادت کی کشمکش شامل ہے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف اسے اپنے قومی مفادات، سلامتی اور معاشی ضروریات کا خیال رکھنا ہے، تو دوسری طرف اسے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر امن کے فروغ میں اپنا کردار بھی ادا کرنا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں اسی توازن کی تلاش کا اظہار ہیں۔
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ اور امریکا کے ساتھ رابطے میں رہنے کی پالیسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان تصادم کے بجائے مصالحت کا راستہ اپنانا چاہتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر عالمی برادری کے تحفظات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ ایک اہم عالمی مسئلہ ہے اور دنیا پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات سے دوچار ہے۔ تاہم اس مسئلے کا حل دھمکیوں، پابندیوں اور فوجی دباؤ میں نہیں بلکہ شفاف، جامع اور منصفانہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔
ایران کو اپنی پوزیشن واضح کرنے اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بھی ایران کے جائز سیکیورٹی خدشات کو سمجھنا ہوگا۔پاکستان کی اپنی تاریخ اس بات کی مثال ہے کہ ایٹمی صلاحیت کے باوجود اس نے ذمے دارانہ رویہ اختیار کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ایٹمی ہتھیار دفاع اور توازن کے لیے ہیں، جارحیت کے لیے نہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان عالمی برادری کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ ایٹمی مسائل کا حل مکالمے اور اعتماد سازی میں ہے، نہ کہ تصادم میں۔موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی مشاورت بڑھانی چاہیے۔
چین، روس، ترکی اور خلیجی ممالک اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ایک مشترکہ سفارتی دباؤ اور مذاکراتی فریم ورک تشکیل دیا جائے تو ایران اور امریکا دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جنگ اور کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ پابندیاں ہوں یا فوجی کارروائیاں، ان کا براہ راست اثر عوام کی زندگیوں، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ ایران پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ ایک نئی جنگ یا بڑے تصادم کی صورت میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے امن کی کوششیں دراصل اسی انسانی پہلو کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا مختلف تنازعات میں گھری ہوئی ہے، پاکستان کی آواز ایک معتدل، متوازن اور ذمے دار آواز کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اخلاقی طور پر بھی ایک موقع ہے کہ وہ امن، مکالمے اور تعاون کی حمایت کرے۔آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی سیاست میں طاقت کے کھیل کبھی ختم نہیں ہوتے، مگر دانشمندانہ قیادت وہی ہوتی ہے جو طاقت کے استعمال کے بجائے عقل، تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح دے۔
امید کی جانی چاہیے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گی اور خطے کو ایک اور تباہ کن بحران سے بچانے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ اقدامات کریں گی۔ امن صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، اور پاکستان اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔