حال ہی میں کئی نئی دستاویزات اور ایپسٹین فائلز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی نیویارک میں واقع رہائش گاہ میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود بارک (Ehud Barak) اور ان کے قریبی ساتھی باقاعدگی سے آتے جاتے تھے اور یہاں تک کہ ٹھہرا بھی کرتے تھے۔
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین کی رہائش گاہ پر بارک اور ان کی اہلیہ نے کئی بار قیام کیا ہے اور ان کے نام ایمیلز/ریکارڈز میں شامل پائے گئے ہیں۔
ایہود بارک نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ ایپسٹین سے جان پہچان رکھتے تھے اور انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ ملاقاتیں کیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غیر قانونی یا نامناسب پارٹیز میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ کوئی غلط فعل کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ ایپسٹین فائلز میں اس قسم کی معلومات شامل ہیں جس میں ایپسٹین کے نیٹ ورک میں کچھ سیاسی اور اشرافیہ شخصیات کے نام آئے ہیں۔
فی الحال دستیاب دستاویزات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ سابق وزیر اعظم براہِ راست جنسی جرائم میں ملوث تھے یا انہوں نے ایپسٹین کے جرائم میں حصہ لیا تاہم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے تھے۔