ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اب یورپی یونین کی تمام افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برابر کا بدلہ لینے کے اصول کی شق نمبر سات کے تحت یورپی ملکوں کی افواج کو ’دہشتگرد‘ قرار دیا جاتا ہے۔
محمد باقر کا یہ بیان یورپی یونین کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق محمد باقر قالیباف، جو خود بھی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں، کا یہ اعلان غالباً علامتی نوعیت کا ہے۔
ایران اس سے قبل بھی 2019 کے ایک قانون کے تحت دیگر ممالک کی افواج کو جوابی طور پر دہشت گرد قرار دیتا رہا ہے، جب اسی سال امریکا نے ریولیوشنری گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
قالیباف نے یہ اعلان اس وقت کیا جب وہ اور دیگر اراکینِ پارلیمنٹ اسلامی انقلابی گارڈز کی حمایت میں اس کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی کنٹرول کرتی ہے اور ملک میں اس کے وسیع معاشی مفادات ہیں۔ یہ فورس براہِ راست ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ریولیوشنری گارڈ کو نشانہ بنا کر، جو خود یورپ میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے، یورپیوں نے درحقیقت خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور ایک بار پھر امریکا کی اندھی اطاعت کرتے ہوئے اپنے عوام کے مفادات کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
اسی دوران ایران نے اتوار اور پیر کو آبنائے ہرمز میں براہِ راست فائرنگ پر مشتمل فوجی مشقوں کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کا ایک اسٹریٹجک اور تنگ راستہ ہے جہاں سے دنیا کی مجموعی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اجلاس کے دوران بعد ازاں اراکینِ پارلیمنٹ میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ہفتے کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مذاکرات کے لیے ساختی انتظامات آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم امریکا کے ساتھ کسی براہِ راست مذاکرات کے کوئی عوامی شواہد موجود نہیں، جنہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بارہا مسترد کر چکے ہیں۔