ذکی اعجاز
(ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی)
ملک کی 34 سے 38 فیصد ایکسپورٹ عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ہمارے ہاں پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔ بجلی مہنگی ہے۔ پاکستان میں صنعت کو ساڑھے 12 سینٹ فی یونٹ مل رہی ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں 8 سینٹ، انڈونیشیا 7 سینٹ اور سری لنکا میں 6 سینٹ فی یونٹ ہے۔
ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ اسے پہلے فیز میں 9 سینٹ کیا جائے اور بتدریج 6 سینٹ پر لایا جائے۔ ہم ہر یونٹ میں ساڑھے 17 روپے کپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی ٹرانسمیشن لائنز 24 ہزار میگا واٹ کی ہیں تو 48 ہزار میگاواٹ آئی پی پیز کے معاہدے کیسے ہوئے؟کچھ آئی پی پیز بند ہوگئے مگر 20 ہزار میگاواٹ کے آئی پی پیز مزید آرہے ہیں۔ کچھ برسوں میں ہمارے پاس 62 ہزار میگا واٹ کے آئی پی پیز ہوں گے، خطرہ یہ ہے کہ کپیسٹی چارجز مزید بڑھ جائیں گے۔
نیٹ میٹرنگ کے حساب سے حکومت کے اعداد و شمار ہیں کہ 19 ہزار میگا واٹ کے سولر لگ چکے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ 40 ہزار میگاواٹ کے قریب ہیں، سب لوگ نیٹ میٹرنگ پر نہیں ہیں۔ 2018ء سے پہلے کی حکومت اور موجود حکومت نے گرین انرجی پر توجہ دی، جب انڈسٹری گرین انرجی پر شفٹ ہوگئی تو اب حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ 29 روپے کے بجائے 11 روپے میں یونٹ خریدے گی۔
پنجاب حکومت نے 500 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر 4 پیسے فی یونٹ بجلی ٹیکس لگا دیا ہے حالانکہ یہ تو وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔ حکومت جو سبسڈی 300سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو دے رہی ہے، اس کا بوجھ بھی صنعتوں پر ڈالا گیا ہے۔
اس طرح ہم 131ارب روپے کی سبسڈی عوام کو دے رہے ہیں۔افسوس ہے کہ اضافی بوجھ کی وجہ سے ملک کی انڈسٹری ختم ہورہی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے 150 یونٹ بند ہوچکے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں شدید بے روزگاری کا خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صنعتیں بند ہونے سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے تو سستا بل بھی کیسے ادا کریں گے؟ گیس کی بات کریں تو وہ 3900 روپے ایم ایم بی ٹی یو ہے جسے 2400 روپے ایم ایم بی ٹی یو ہونا چاہیے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں بجلی اور گیس دونوں سرپلس ہیں لیکن دونوں کی ہی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔ میرے نزدیک یہ حکومت کی کوتاہی ہے، توانائی بیچے اور پیسہ کمائے۔ شرح سود کی بات کریں تو ہمارا دسمبر کا سی پی آئی انڈیکس 2.7فیصد تھا جبکہ شرح سود 10.5 فیصد ہے۔ دنیا میں جو نظام رائج ہے، آئی ایم ایف بھی یہی کہتا ہے کہ اپنے سی پی آئی انڈیکس سے 1.5 سے 2 فیصد اوپر رکھیں اور اس کے مطابق شرح سود کو مینج کریں۔
خطے کے دیگر ممالک کی بات کریں تو تھائی لینڈ میں شرح سود5 1.7 فیصد ، تائیوان میں 2 فیصد، کمبوڈیا میں 3فیصد، چین میں 3.45فیصد، ویتنام میں 4.5 فیصد جبکہ انڈونیشیا اور بھارت میں 5.25 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم زیادہ شرح سود کے ساتھ کس طرح دوسرے ممالک کا مقابلہ کریں گے۔ گزشتہ برس حکومت نے ملک بھر سے ریونیو کی مد میں 11 ہزار 900 ارب روپے اکٹھے کیے جس میں سے 8 ہزار ارب بینکوں کو ادا کر دیے گئے حالانکہ یہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔ اس پہلے 1.1 ٹریلین اُن آئی پی پیز کو ادا کردیے جاتے تھے جنہوں نے ایک یونٹ بھی نہیں بنایا۔ ٹیکس کی بات کریں تو دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 سے 65 فیصد ہے، ایف بی آر شارٹ فال ہم سے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام رہی ہے اور جو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں ان پر مزید ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔
ایف بی آر ایکسپورٹر سے ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس اور ایک فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لیتی ہے، اس کے بعد انہیں نارمل ٹیکس رجیم میں لایا جاتا ہے۔ مطالبہ ہے کہ انہیں فائنل ٹیکس رجیم میں لایا جائے اور ایک فیصد ٹیکس کو فل اینڈ فائنل قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ 1.25 ٹرن اوور ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس کمپنیوں پر (بینکوں کے علاوہ) 20 فیصد اور افراد پر 15 فیصد ہونا چاہیے۔ سپر ٹیکس سیلاب جیسی آفات سے نمٹنے کیلئے لگایا گیا تھا، اگر یہ استعمال کرنا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ ٹیکس ختم کیا جائے۔ اگر حکومت بتائے گئے مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، بزنس کمیونٹی کو ساز گار ماحول فراہم کرے، اضافی بوجھ کا خاتمہ کرے تو ملکی معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کی روشنی میں لگتا ہے کہ ہم فی الحال آئی ایم ایف کے پروگرام سے نہیں نکل سکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2023ء اور آج کی صورتحال میں بہت فرق ہے۔کہا جا رہا تھا کہ سری لنکا جیسے حالات بن رہے ہیں، ڈالر 350 روپے سے اوپر چلا گیا تھا، ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا لیکن فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے آنے کے بعد سے حالات بدل گئے اور ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ۔ عبوری حکومت اور موجودہ حکومت نے بہت محنت کی ہے، ڈالر سستا ہوا، شرح سود 22 فیصد سے 10.5 فیصد پر آئی ، بجلی کا ریٹ کم کیا گیااور ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن سے فائدہ ہوا مگر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم نے عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کرنا ہے، کاروبار کو فروغ دینا ہے، ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے تو کاروبار دوست پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ 2022ء تک بینکوں میں ڈیپازٹ 21 ٹریلین تھا جو تین سالوں میں 36 ٹریلین ہوگیا ہے۔ پوری قوم سود خور بن گئی ہے، لوگ انڈسٹری بند کرکے بینکوں میں فکس ڈیپازٹ کروا رہے ہیں۔
سٹاک مارکیٹ میں بھی بینکوں، کھاد اور چند شعبوں میں تیزی آئی ہے، اس کا فائدہ عام آدمی کو منتقل نہیں ہو رہا۔ حکومت کو ’’آؤٹ آف دا باکس ‘‘سوچنا ہوگا، بڑی صنعتیں بند ہوچکی، چھوٹی صنعتیں بھی آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کو چاہیے کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کو جلد از جلد حل کریں تاکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے۔ حکومت نے ڈبے والے دودھ پر 18 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے، یہ تو بچوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی طرح چوزے پر 10 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔ دنیا میں پٹرول سستا ہو رہا ہے، حکومت اس فرق کو لیوی میں ایڈجسٹ کر دیتی ہے، گزارش ہے کہ لوگوں کو سانس لینے دیا جائے۔
ڈاکٹر محمد ارشد
(سابق ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی)
دو برس قبل حکومت نے گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا پلان بنایا۔میں نے اس پالیسی کے خدوخال دیکھ کرسیکرٹری زراعت سے کہا تھا کہ یہ پلان دیکھنے اور سننے میں تو اچھا ہے لیکن قابل عمل نہیں ہے۔ پاکستان میں گندم کی کھپت تقریباََ 25 ملین ٹن سالانہ ہے، اگر اس میں ایک دو ملین ٹن کم یا زیادہ ہوجائیں تو مسئلہ ہوتا ہے، کبھی گندم سرپلس اور کبھی اس کی قلت ہو جاتی ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ گندم کی قیمت فکس نہیں کی جائے گی بلکہ یہ اوپن مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کے حساب سے ہوگی۔
حکومت اس پر صحیح معنوں میں عملدرآمد نہیں کرسکی بلکہ ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا کہ گندم کی قیمت کو ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیا جائے گا اور روٹی مہنگی نہیں ہونے دیں گے۔ اس کاتوڑ حکومت نے یہ نکالا کہ کچھ ملین ٹن گندم خود خرید کر گوداموں میں محفوظ کی جائے گی تاکہ جب گندم کا ریٹ ایک حد سے اوپر جائے تو یہ گندم مارکیٹ میں بیچ کر قیمت کو نیچے لایا جاسکے۔
اسی طرح اگر گندم سرپلس ہو جائے تو حکومت کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے ان سے گندم خرید لے گی۔ اس عمل میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کروڑوں کی ڈیل ہونی ہے لہٰذا کوئی بھی سرکاری افسر گندم کے ریٹ کے اتار چڑھاؤ میں فیصلہ لیتے ہوئے گھبرائے گا کہ کہیں اس پر کرپشن کا الزام نہ لگے اور نیب بھگتنی پڑے۔ فرض کریں آج گندم کا ریٹ تین ہزار ہے اور مارکیٹ میں گندم کی قلت ہوگئی۔ حکومت تین ہزار روپے فی من ریٹ پر گندم پیچ دیتی ہے مگر مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے تو متعلقہ افسر کے خلاف خزانے کو نقصان پہنچانے کی انکوائری شروع ہو جائے گی۔ حکومت نے اس وقت ڈھائی ملین ٹن گندم بیچنے کا فیصلہ کیا ہے، نئی فصل میں ابھی تین ماہ باقی ہیں اور گندم کی کوئی قلت بھی نہیں ہے۔
اگر یہ چند ماہ بعد بیچی جائے تو اس کا ریٹ اچھا ملے گا۔ گندم بیچنے کے فیصلے کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ گندم ٹھیک سے سٹور نہیں ہوئی اور گوداموں میں ہی خراب ہوگئی ہے۔ ہمارا سٹوریج سسٹم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ سکریننگ ، تھرمو ریگولیٹری سسٹم وغیرہ نہیں ہے۔حکومت کے پاس گندم کی مجموعی کھپت کی 60 فیصد سٹوریج کی کپیسٹی ہونی چاہیے جو جدید تقاضوں کے مطابق ہو۔ گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئے میکنزم اور مشینری موجود نہیں، حکومت کو اس پر کام کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم کو مارکیٹ پر چھوڑ دے، اس کی امپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں کی اجازت ہونی چاہیے۔
عبوری حکومت کے دور میں گندم کی قلت پیدا ہوئی تو سات دن کے اندر اندر گند م پاکستان پہنچ گئی اور کہا گیا کہ ملی بھگت ہوئی ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ دبئی کی کمپنی کے چند جہاز سمندر میں ہی گھوم رہے ہوتے ہیں، آن لائن ڈیل ہوتی ہے اور وہ متعلقہ ملک میں مال پہنچا دیتے ہیں۔ بہت سے ملک ایسے ہیں جو ایک ہی سیزن میں ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں اور امپورٹ بھی۔ اس کا تعلق ضرورت کے ساتھ ہوتاہے۔ بیوپاری جب اوپن مارکیٹ میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں تو قیمت زیاد ہ اوپر نہیں جاتی۔روس کی گندم بہت سستی ہے۔ اگر امپورٹ کی اجازت ہو تو ایسے علاقے جہاں غربت زیادہ ہے،وہاں روسی گندم سے بنا آٹا سستے داموں فروخت کیا جاسکتا ہے۔
موجودہ حالات میں ضرورت یہ ہے کہ امپورٹ اور ایکسپورٹ سے منسلک مسائل حل کیے جائیں، تاجر کو فائدہ ہوگا تو یہ عوام تک منتقل ہوگا۔پاکستان کی چاول کی ایکسپورٹ 10 ملین ٹن اور بھارت کی 150 ملین ٹن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی حکومت اپنے ایکسپورٹرز کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، اگر دنیا میں کہیں ان کے ساتھ مسئلہ ہوتو بھارت کے سفیر وہاں اپنے ایکسپورٹر کی مدد کرتے ہیں جبکہ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمیں اپنے ایکسپورٹر کو اعتماد اور عالمی مارکیٹ میں مکمل سپورٹ دینا ہوگی۔ جن ممالک سے ہم امپورٹ کرتے ہیں۔
ان ممالک کو پابند کیا جائے کہ وہ ہم سے کچھ خریدیں تاکہ امپورٹس بڑھائی جاسکیں۔مثال کے طور پر ہم کینیا سے چائے امپورٹ کرتے ہیں، ہمیں ان کے ساتھ ایکسپورٹ کا معاہدہ بھی کرنا چاہیے۔ہمارا ایک بڑا مسئلہ زیادہ شرح سود ہے، حکومت نے بارہا اس میں کمی کی یقین دہانی کروائی لیکن تاحال اسے سنگل ذیجٹ پر نہیں لایا جاسکا۔ کاروبار کو ریلیف دینے کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا ہوگا، اس کے بغیر معاشی بوجھ کم نہیں ہوگا۔ ہمارے معاشی مسائل آج بھی حل ہوسکتے ہیں، اس کیلئے بہتر پالیسی اور عملدرآمد کا موثر میکنزم بنانا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر مبشر منور خان
(ماہر معاشیات )
پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسائل آج بھی برسوں پرانے ہیں جو ٹھیک نہیں ہوسکے۔ ہماری بیوروکریسی کی معیشت کے حوالے سے نہ ٹریننگ ہے اور نہ ہی کپیسٹی، ایک ہی افسر کو مختلف محکموں میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح ہر شعبے کا ماہر ہوسکتا ہے؟ اگر ہم ملک میں معاشی استحکام چاہتے ہیں تو معیشت کو بیوروکریسی کے اختیار سے نکال کر ماہرین کے حوالے کرنا ہوگا۔ 70 ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنلائزیشن ہوئی جس سے معیشت اور کاروبار کو دھچکا لگا، ہم آج تک اس کے اثرات سے نہیں نکل سکے، آج بھی ہم فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔
حکومت ہمیشہ وہ اچھی ہوتی ہے جو کم سے کم حکومت ہو، حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا بلکہ بزنس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ہماری چاول کی ایکسپورٹ میں بڑی کمی آئی ہے، عالمی مارکیٹ میں یہ گیپ دوسرے ممالک نے پورا کیا ہے، اب یہ کسٹمرز کیسے واپس آئیں گے؟ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کیلئے 30 کے قریب محکمے ہیں، اب ان میں انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی، پیرا و دیگر ادارے بھی شامل ہوگئے ہیں جن سے کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
کبھی ماحول کے نام پر تو کبھی کسی اور وجہ سے فیکٹریاں سیل کر دی جاتی ہیں۔ کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے بعد پنجاب میں فائر فائٹنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹریاں بند کر دی گئیں، سوال یہ ہے کہ ہم سانحہ کے بعد ہی کیوں متحرک ہوتے ہیں؟ ایک پالیسی ہونی چاہیے اور اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے جو کسی سانحہ کی محتاج نہ ہو۔ ہمارے ہاں نئے ادارے بننے سے کرپشن کے نئے راستے کھلتے ہیں اور خزانے پر بوجھ بھی بڑھتا ہے، ہمیں سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ ہماری ایکسپورٹ میں بہت کمی آئی ہے، اب حکومت اس طرف توجہ دے رہی ہے۔حکومت نے کاروباری طبقے کو ایکسپورٹ کی طرف راغب کرنے کیلئے ایوارڈز اور بلیو پاسپورٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس کم کرے، توانائی کے ریٹ میں کمی لائی جائے اور کاروباری طبقے کی مشاورت سے کاروبار دوست پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ پیداوار لاگت میں کمی لاکر کاروبار کو فروغ دیا جاسکے۔ ہمارے ہاں ٹیکس کی شرح زیادہ ہے، اس کا بوجھ کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے پر بھی پڑتا ہے لیکن ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ جرمنی میں ٹیکس بہت زیادہ ہے لیکن وہاں لوگوں کو سہولیات ملتی ہیں، ہمارے ہاں ٹیکس سوشل ویلفیئر ریاستوں والا ہے لیکن سہولیات افریقہ والی ہیں۔ملکی معاشی مسائل کے پیش نظر ضروری یہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کم از کم 15 سالہ معاشی پلان ترتیب دیا جائے تاکہ دنیا بھر کے سرمایہ داروں اور ممالک کا اعتماد حاصل کیا جاسکے۔