آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی استحکام ناممکن، ترقی مشکل

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے نصف مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، تاہم یہ پروگرام ملک بھر میں سیاسی، معاشی اور میڈیا حلقوں میں شدید بے چینی کاباعث بن رہا ہے۔

سابق و موجودہ وزرا اور ماہرین معاشیات کھل کر آئی ایم ایف کی سخت پالیسیوں کو ترقی مخالف قرار دے رہے ہیں، جن کے باعث معاشی مشکلات اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

سپلائی سائیڈ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام ٹیکسوں میں اضافے، بلند شرح سود، کرنسی کی قدر میں کمی اور سخت مالیاتی اہداف پر مبنی ہوتا ہے، جو معیشت کوسست روی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے کم ٹیکس، وسیع ٹیکس نیٹ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم کرنسی، ضوابط میں نرمی، آزاد تجارت اورسرکاری اداروں کی نجکاری ناگزیر ہے۔

حکومت کی جانب سے ٹیکس اورشرح سودمیں کمی پر مبنی مجوزہ ترقیاتی منصوبہ امید تو دلاتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیاآئی ایم ایف اس پر لچک دکھائے گا یا پاکستان 2027 تک سست رفتار معیشت اور مشکلات کے ساتھ پروگرام جاری رکھنے پر مجبوررہے گا۔

Similar Posts