پی ٹی آئی دورِ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی چھان بین شروع، غیر منظور شدہ اسکیمیں ختم کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی چھان بین شروع کردی گئی ہے، جس کے دوران غیر منظور شدہ اور غیر فعال اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت میں اسٹیشنری کی خریداری اور سرکاری گاڑیوں کی مرمت پر کروڑوں روپے کے مبینہ غیر قانونی اخراجات بھی سامنے آئے ہیں، جن پر اینٹی کرپشن نے کارروائی شروع کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی دورِ حکومت میں صوبے میں 1224 نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی تھیں، جن کا مجموعی تخمینہ ایک ہزار 348 ارب روپے تھا، تاہم ان اسکیموں کے لیے بجٹ میں صرف 107 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ متعلقہ فورمز نے غیر منظور شدہ اسکیمیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر فعال اسکیمیں سہیل آفریدی اور بابر سلیم کے حلقوں میں بھی شامل تھیں۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چھان بین میں سیاسی اثرورسوخ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور تمام فیصلے کیس ٹو کیس میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

دوسری جانب محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں 8 کروڑ روپے کی اسٹیشنری کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن نے 7 کروڑ 99 لاکھ روپے کی خریداری کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسٹیشنری کی خریداری بجٹ اور پرچیز کمیٹی کی منظوری کے بغیر کی گئی، جبکہ ایک من پسند کمپنی کو کروڑوں روپے کی ادائیگی بھی کی گئی۔ خریدی گئی اشیا کی فزیکل ویریفکیشن نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کا اندراج اسٹاک رجسٹر میں موجود ہے۔

اینٹی کرپشن نے ڈی جی ہیلتھ سروسز کو سات روز میں خریداری کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر محکمہ صحت میں سرکاری گاڑیوں کی مرمت کے نام پر بھی مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف تین ماہ کے دوران 12 گاڑیوں کی مرمت پر ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق 39 لاکھ روپے مالیت کی ایک گاڑی کی مرمت پر 47 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ ایم ایس اسرارالدین کو مجموعی طور پر 4 کروڑ 50 لاکھ 78 ہزار روپے ادا کیے گئے۔

اینٹی کرپشن کے مطابق گاڑیوں کی لاگ بکس اور ہسٹری شیٹس میں مرمت کے اخراجات کا اندراج بھی موجود نہیں۔ ادارے نے محکمہ صحت سے تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 15 روز میں دستاویزات فراہم نہ کرنے کی صورت میں مزید کارروائی کی جائے گی۔

Related posts