وزیراعظم کا عوام کو فیول سبسڈی نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی پیشرفت کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم سبسڈی اسکیم کے تحت چار نومبر تک ایک کروڑ 55 لاکھ 9 ہزار 282 مستحق شہری رجسٹر ہو چکے ہیں، جنہیں مجموعی طور پر 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔
جمعرات کو وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی طارق باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظفر اقبال سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے پروگرام کی شفافیت اور اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ اس اہم اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مستفید ہونے والے شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رجسٹرڈ افراد میں 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان اور 449 ہزار 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق اسکیم کے تحت اب تک 6 کروڑ 31 لاکھ 53 ہزار 685 ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے5 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار 347 ٹوکنز کا استعمال عمل میں لایا جا چکا ہے۔ صارفین اور پیٹرول پمپ مالکان کو معلومات کی فراہمی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے الگ الگ کال سینٹرز بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رجسٹریشن کے آسان عمل کی بدولت زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔
انہوں نے اسکیم کی مانیٹرنگ اور ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔