الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کردیے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا عمل تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیا ہے اور صوبے بھر میں انتخابی عمل کے لیے جاری تمام اقدامات کو فی الفور روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرِ صدارت الیکشن کمیشن کے اہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ آرڈر نمبر تین اور اس کے تحت آئینی شقوں کی معطلی کے باعث خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں فی الوقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔

الیکشن کمیشن میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کے چار نومبر کو جاری کردہ آرڈر نمبر تین اور اس سے پیدا ہونے والی قانونی صورتِ حال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے آزادانہ، منصفانہ اور بر وقت انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی شق کی معطلی کے بعد اس کے اثرات صوبے کے دیگر اضلاع پر بھی لاگو ہوتے ہیں، جس کی بنا پر انتخابی تیاریوں کا تسلسل برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے دوران کمیشن نے وفاقی حکم نامے کے انتخابی عمل پر مرتب ہونے والے تکنیکی و قانونی اثرات کا جامع احاطہ کیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آئینی اور انتظامی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تمام تر سرگرمیاں روک دی گئی ہیں اور انتخابی عمل کی بحالی یا نئے شیڈول کا فیصلہ قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جس سے مقامی حکومتوں کے ڈھانچے کی تشکیل میں مزید تاخیر ہوگی۔

فیصلے کے بعد صوبائی و وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عدالتی اور آئینی احکامات کے مطابق الیکشن کمیشن کی حتمی ہدایات کا انتظار کریں، جبکہ معاملے کی مزید سماعت یا جائزہ آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مقامی حکومتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد سے تاخیر کا شکار ہے۔ صوبے میں پہلے مرحلے کے تحت منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت مارچ 2026 جب کہ دوسرے مرحلے کے اداروں کی مدت جون 2026 میں ختم ہوگئی تھی تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں انتخابات بروقت منعقد نہیں ہوسکے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 28 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے خیبرپختونخوا کے ان تمام اضلاع میں فوری انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، جہاں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے صوبائی حکومت اور متعلقہ انتخابی حکام کو انتخابی شیڈول تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ فیصلے کے مطابق 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہوچکی ہیں، اس لیے وہاں انتخابی عمل میں مزید تاخیر نہ کی جائے جب کہ دیگر اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا تھا کہ آئینی ہنگامی حالت سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے 12 قبائلی اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔ ان اضلاع میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

صوبائی انتظامیہ نے امن و امان کی صورت حال، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور ہنگامی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ان اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کو انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔ کمیشن کے مطابق جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہیں، وہاں انتخابی عمل آگے بڑھایا جائے جب کہ باقی علاقوں میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کیا جائے۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کے تناظر میں وفاقی کابینہ نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی۔ بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر اسی روز سمری پر دستخط کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔

وفاقی حکومت کے مطابق اس اقدام کی وجوہات میں صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون کی کمی شامل تھی۔ گورنر راج کے تحت خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبائی حکومت کے انتظامی امور کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جب کہ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔

بعد ازاں 15 اکتوبر 2026 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلانات کی منظوری دے دی۔

Related posts