غلط برطرف سرکاری ملازم مکمل مراعات کا حقدار ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غلط طریقے سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والا سرکاری ملازم سروس سے باہر رہنے والی مدت کے لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے۔

جسٹس وحید کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ بنیادئ یاور عام اصول ہے کہ جب برطرفی غلط ثابت ہو تو مالی معاوضہ صوابدیدی نہیں ہے، ایسے سرکاری ملازم کو  مکمل تنخواہ دی جانی چاہیے۔

حکم نامے میں وضاحت کی گئی کہ یہ ہدایت بنیادی طور پر سرکاری ملازم کو اس کی اصل معاشی حالت میں بحال کرنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ غلط طریقے سے برطرفی محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ غلط طریقے سے ملازمت سے برطرفی کے معاملات میں ناانصافی کی ذمہ داری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے اوراس کا خمیازہ سرکاری ملازم کو بھگتنا پڑتا ہے جسے آئینی اذیت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ 

کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک سرکاری ملازم  اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ محرومی براہ راست آئین کے آرٹیکل 9 سے منسلک ہے جو زندگی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

Similar Posts