مظاہرین کے مطابق عبدالواسع کو چوری کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس تشدد کے باعث اس کی ہلاکت ہوئی، جس پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج کے بعد مظاہرین نے ماڑی پور روڈ پر بھی دھرنا دیا جس کے باعث آئی سی آئی سے ماڑی پور روڈ تک ٹریفک شدید متاثر رہی۔
بعد ازاں ایس ڈی پی او کیماڑی نے ورثا سے مذاکرات کیے جس کے بعد احتجاج ختم کرا دیا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے حراست میں تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عبدالواسع پولیس کی تحویل میں نہیں تھا بلکہ سول اسپتال میں دورانِ علاج جاں بحق ہوا۔
تفتیشی پولیس کے مطابق ملزم کو 30 جنوری کو ڈاکس تھانے میں 27 لاکھ روپے کی چوری کے مقدمے میں تکنیکی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا تھا اور مدعی نے خود ملزم کی شناخت کی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزم بیمار ہونے کے باعث شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور وہ پولیس کی کسٹڈی میں نہیں تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے 4 لاکھ روپے نقدی بھی برآمد کی گئی تھی اور وہ ماضی میں بھی چوری کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکا تھا، جن میں تھانہ ماڑی پور، سپر مارکیٹ اور پریڈی کے پانچ مقدمات شامل ہیں۔
تفتیشی پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ملزم نشہ آور اشیاء آئس اور ہیروئن کا عادی تھا اور حراست میں لیتے وقت بھی اس نے آئس کا نشہ کیا ہوا تھا۔
طبیعت خراب ہونے پر ملزم کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس کے مطابق ملزم پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا اور ہلاکت نشے کے استعمال کے باعث ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق شخص کا پوسٹ مارٹم آج مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیا جائے گا تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔