بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل میں نازیبا ای میل؛ بل گیٹس کا ردعمل سامنے آگیا

امریکا میں تازہ جاری کیے گئے جیفری ایپسٹین کی ایک ای میل میں مبینہ طور پر بل گیٹس کا نام ایک ایسی بیماری کے ساتھ آیا تھا جو جنسی عمل سے پھیلتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایپسٹین فائلز میں نام سامنے آنے کے بعد مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پہلی بار اپنی جانب سے وضاحت جاری کی ہے۔

انھوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مضحکہ خیز قرار دیا کہ میری جیفری ایپسٹین سے ملاقات بھی چند ڈنرز تک محدود تھیں۔

بل گیٹس نے آسٹریلیا کے چینل 9 نیوز کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان ڈنرز کا مقصد بھی گلوبل ہیلتھ پروگرامز کے لیے فنڈ ریزنگ پر بات چیت کرنا تھا نہ کہ کسی ذاتی یا مجرمانہ عمل میں ملوث ہونا۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو ای میل سامنے آئی ہے وہ ایپسٹین نے خود اپنے لیے لکھی اور کبھی بھی کسی کو بھیجی نہیں گئی۔

بل گیٹس نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ایپسٹین نے ایسا کیوں سوچا۔ مجھ پر یہ لگنے والا یہ الزام مکمل طور پر غلط ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں جیفری کے ساتھ کبھی کسی جزیرے پر نہیں گیا اور نہ ہی میں نے ان کے ریفرنس سے کسی خواتین سے ملاقات کی۔

تاہم بل گیٹس نے یہ بھی کہا کہ میں ہر وہ لمحہ جس میں جیفری جیسے مجرم کے ساتھ میں نے وقت گزارا مجھے اس پر افسوس ہے اور میں معافی مانگتا ہوں کہ میں نے یہ کیا۔

یاد رہے کہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی ایک ای میل میں ایپسٹین نے خود اپنے لیے ایک مسودہ تیار کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بل گیٹس کو روسی خواتین سے ایک جنسی بیماری (STD) ہوگئی تھی۔

ای میل میں لکھا تھا کہ اس بیماری کا معلوم ہونے پر بل گیٹس نے اپنی سابقہ اہلیہ میلندا فرنچ گیٹس کو خفیہ طور پر اینٹی بائیوٹکس دینے کی کوشش بھی کی تھی تاکہ یہ بیماری انھیں نہ لگے۔

اس معاملے پر بل گیٹس کی سابقہ اہلیہ میلندا فرنچ گیٹس نے بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ نئے جاری ہونے والے فائلز میں شامل تفصیلات نے ان کے گزشتہ شادی کے دوران بہت تکلیف دہ یادیں تازہ کر دی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ایپسٹین کی جانب سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے انصاف ضروری ہے اور انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ ان جیسے معاملات نے لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی نشاندہی کی ہے۔

میلندا نے زور دیا کہ ایسے حساس سوالات کے جوابات براہِ راست ملوث افراد خود دیں نہ کہ کوئی دوسرا ان کی ترجمانی کرے۔

 

Similar Posts