یونان میں مہاجرین کی کشتی اور کوسٹ گارڈ بوٹ میں تصادم، 15 افراد ہلاک

یونان کے جزیرے خیوس کے ساحل کے قریب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہا مہاجرین کو لے جانے والی تیز رفتار کشتی اور یونانی کوسٹ گارڈ کی پیٹرولنگ بوٹ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

یہ واقعہ منگل کی رات خیوس اسٹریٹ میں پیش آیا، یونانی حکام کے مطابق حادثے کے وقت کوسٹ گارڈ کی جانب سے کشتی کا تعاقب کیا جا رہا تھا۔

یونانی حکام کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی کشتی خطرناک انداز میں حرکت کر رہی تھی اور اس میں نیویگیشن لائٹس بھی موجود نہیں تھیں۔

کوسٹ گارڈ کے مطابق گشتی کشتی نے روشنی اور آواز کے ذریعے کشتی کو رکنے کے اشارے دیے، تاہم کشتی نے رکنے کے بجائے اچانک رخ موڑا اور گشتی کشتی کے دائیں جانب ٹکرا گئی۔

تصادم کے بعد مہاجرین کی کشتی الٹ گئی اور ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں تمام مسافر سمندر میں جا گرے۔

حادثے کے بعد شروع کیے گئے ریسکیو آپریشن میں اب تک 24 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جن میں سے کئی شدید زخمی ہیں جبکہ بعض افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یونانی ٹی وی رپورٹس کے مطابق بچ جانے والے زیادہ تر افراد افغان شہری ہیں، جبکہ ایک شخص نے خود کو مراکشی بتایا ہے۔

زخمیوں میں سات بچے، ایک حاملہ خاتون اور کوسٹ گارڈ کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 25 افراد کو خیوس کے اسکائی لیٹسئیو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ایک خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کئی زخمیوں کو شدید اندرونی چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے تین افراد کی فوری سرجری کی گئی۔

دو حاملہ خواتین کے بارے میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ جنین میں دل کی دھڑکن موجود نہیں رہی، جس کے بعد ان کے بھی آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد افراد کو شدید سردی لگنے، سر پر چوٹیں اور ہڈیاں ٹوٹنے کے باعث علاج دیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ مریض تاحال آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔

کوسٹ گارڈ نے تصدیق کی ہے کہ دو گشتی کشتیوں نے سمندر سے 14 لاشیں نکالی ہیں، جن میں 11 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں۔

تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید فرانزک ماہرین بھی خیوس پہنچ رہے ہیں۔

مرکزی بندرگاہی اتھارٹی نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حادثے کے وقت کشتی میں کل کتنے افراد سوار تھے۔

حادثے کے بعد بدھ کے روز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا، جس میں چار کوسٹ گارڈ کشتیاں، ایک نجی کشتی جس میں غوطہ خور سوار تھے، اور ایک ہیلی کاپٹر شامل رہا۔

یونانی بحریہ نے بھی علاقے میں نیویگیشن وارننگ جاری کرتے ہوئے بحری جہازوں کو مدد کے لیے الرٹ کر دیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یونان کی جانب سے مہاجرین کی آمد سے نمٹنے کے طریقہ کار پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

جون 2023 میں پیلوس کے قریب ایک کشتی حادثے میں سیکڑوں مہاجرین کی ہلاکت کے بعد یونانی اور بین الاقوامی سطح پر کوسٹ گارڈ اور سرچ اینڈ ریسکیو نظام کے کردار کی تحقیقات کی گئی تھیں۔

یونان کے وزیر برائے مہاجرت تھانوس پلیورِس نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک المناک حادثہ قرار دیا اور کہا کہ اصل مجرم انسانی اسمگلر ہیں جو مہاجرین کو خطرناک حالات میں یونان کے ساحل تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق بعض زخمیوں کو علاج کے بعد جزیرے کے ویال استقبالیہ اور حراستی مرکز منتقل کیا جا سکتا ہے۔

تاحال حکام واقعے کی مکمل تفصیلات اور حادثے کے اصل محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

Similar Posts