امید کا استعارہ

13دسمبر 1997کو پاکستان ایئر فورس کے چار نوجوان شاہینوں نے مسرور ایئر بیس کراچی سے تربیتی اڑان بھری،یہ چاروں سنگل سیٹر فائٹر جہازوں میں محوِ پرواز تھے۔اڑان کے کچھ ہی دیر بعد چار جہازوں کی سارٹی کے آخری چوتھے جہاز کے پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ راشد نے دیکھا کہ کاک پِٹ میں جہاز کو آگ لگنے کی بتی جل رہی ہے۔

اس نے غور کیا تو واقعی اس کے جہاز کو آگ لگی ہوئی تھی۔راشد نے فلائٹ لیڈر کو فوری طور پر آگاہ کیا۔لیڈر واپس پلٹ کر اس کے جہاز کے پاس آیا تو کنفرم ہو گیا کہ فلائٹ لیفٹیننٹ راشد کا جہاز آگ میں تھا۔

فلائٹ لیڈر نے راشد کو کہا کہ وہ کوئی وقت ضایع کیے بغیر جہاز سے کود جائے۔ راشد نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا اور جہاز وہیں گرتا تو نیچے آبادی پر گرتا اور بہت جانی نقصان ہوتا۔

وہ بہت ہمت اور حاضر دماغی سے جہاز آبادی کی حد سے دور لے گیا۔اس بہترین کاوش میں فلائٹ لیفٹیننٹ راشد جل کر شہید ہو گیا لیکن اس نے گوارا نہ کیا کہ نیچے آبادی میں کسی ایک فرد کی بھی جان جائے،کوئی ایک معصوم پاکستانی بھی مرے یا زخمی ہو۔

فلائٹ لیفٹیننٹ راشد شہید کے Illustrious Fatherبھی پی اے ایف میں ایک اعلیٰ افسر رہے۔ انھوں نے انڈیا کے خلاف کئی جنگوں میں شرکت کی اور غازی رہے۔1956 میں وہ دیپال پور کے قصبے منڈی ہیرا سنگھ میں تھے، ان کے دل میں رہ رہ کر جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ اس علاقے کے مکینوں کی دکھی زندگی میں تبدیلی لائی جائے۔

پھر ایک بڑے سیلاب کے دوران ڈیوٹی کرتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ ایک بہت معیاری اسکول بنایا جائے۔1971میں بطور ایک کمبیٹ پائلٹ ہندوستانی اڈے جیسلمیر پر بمبنگ اسٹرائیک سے واپس آئے تو پی اے ایف کے شہیدوں کی فیملیز کے لیے ایک ویلفیئر فنڈ قائم کرنے میں کامیاب رہے۔

اس فنڈ کے طفیل پی اے ایف اسٹاف کی مدد کرنی شروع کی۔ ان کی تعیناتی لیبیا میں ہوئی تو ایک بیرک میں پاکستانی اسٹاف کے بچوں کے لیے ایک اسکول کا بندوبست کیا جو دو سال چلتا رہا اور اس سے 60سے 70بچے مستفید ہوئے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فلائٹ لیفٹیننٹ راشد کا گھرانہ دوسروں کے لیے جینے کے جذبے سے سرشار ہے۔

ٹنڈو الہ یار جہاں فلائٹ لیفٹیننٹ راشد نے اپنے جلتے فائٹر ایئر کرافٹ کو آبادی پر گرنے سے بچانے کے لیے اپنی جان دے دی اس کی زمین پر ایک منفرد ویلفیئر ٹاؤں شپ پروجیکٹ نے جنم لیا اور آج یہ ویلفیئر پروجیکٹ ایک اہم اور خوبصورت ادارے کی شکل لے چکاہے۔

اس پروجیکٹ کو پاکستان کے محسن اور عظیم پائلٹ جناب ایم ایم عالم کی تجویز پر فلائٹ لیفٹیننٹ راشد شہید کے نام سے منسوب کیا گیا۔۔فلائٹ لیفٹیننٹ راشد شہید کے والدِ محترم ایئر کموڈور جناب شبیر صاحب بتاتے ہیں کہ 1996میں انھوں نے پی اے ایف کے 15سے 20 افسروں کو اکٹھا کیا،ان کے سامنے ایک ایسی ٹاؤن شپ بسانے کی تجویز رکھی جس میں ساری سوشل ویلفیئر Activities بشمول تعلیم اور صحت موجود ہوں۔

پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل جناب مصحف میر مرحوم جو اس وقت ایئر کموڈور تھے اور میٹنگ میں شریک تھے، انھوں نے تجویز کیا کہ ہم لوگ دوسرے ساتھی افسروں کو بھی راغب کریں کہ ماہانہ پنشن تو ملتی رہے گی اور گزر بسر ہوتی رہے گی لیکن اگر گریجویٹی کی رقم پس انداز کر کے اس سے ویلفیئر کے کام کو آگے بڑھایا جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔سب نے اس تجویز کو سراہا اور یوں گریجوئیٹی کی رقم سے تجویز کردہ شہر بسانے کے لیے ٹنڈو الہ یار میں زمین خرید لی گئی۔

اس ٹاؤن شپ پروجیکٹ کو روبہ عمل لانے کے لیے راشد میموریل ویلفئر آرگنائیزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔100ایکڑ پر مشتمل زمین پر اس پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد 13دسمبر 1998کو گورنر سندھ کے ہاتھوں رکھا گیا۔

یہ پروجیکٹ کراچی سے کوئی دو سو کلو میٹر جب کہ حیدرآباد سے 35کلومیٹر کے فاصلے پر حیدر آباد ،میرپور ہائی وے پر واقع ہے۔پاکستان ایک ایسی قوم کی دھرتی ہے جس کے سپوت اپنی مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ فلاحی کاموں میں بھی بہت شوق سے اپنا سرمائیہ لگاتے اور وقت دیتے ہیں۔

یہ قوم جب ٹھان لے تو کوئی پہاڑ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا اور جوئے شِیر لاکر ہی دم لیتی ہے۔یہی وہ جذبہ ہے جس کے تحت مجبور،بے کس،بے سہارا،غریب اور مستحق افراد کے لیے راشد میموریل ویلفیئر آرگنائیزیشن نے کمر کسی اور امید کا ایک محیر العقول ادارہ وجود میں آ گیا۔

یہ ادارہ بلا مبالغہ روزانہ ہزاروں غریب اور مجبور افراد کو تعلیم،تربیت اور ہنر دینے کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کی بہترین سہولتیں مہیا کر رہا ہے۔یہ انتہائی حیرت انگیز حقیقت ہے کہ پاکستان ایئر فورس کے افسران کی گریجوئیٹی کی رقم سے شروع کیا جانے والا یہ پروجیکٹ ایک توانا اور سایہ دار درخت بن چکا ہے جس میں مختلف شعبوں پر مشتمل 16ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں

کسی بھی فرد،گروہ یا قوم کو کامیابی سے ہم کنار کرنا ہو تو جو چند چیزیں حاصل کرنا بہت مقدم ہوتی ہیں ان میں تعلیم سرِ فہرست ہے۔راشد شہید کے نام سے منسوب یہ ادارہ ان لوگوں کی طرف بھی دھیان دے رہا ہے جو بول نہیں سکتے،سن نہیں سکتے۔

FESF کے نام سے کام کرتے ہوئے ایک ادارہ یہاں 350طلباء و طالبات کو کے جی سے گریجوئیشن تک تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے باوقار خو کفالت کی طرف لا رہا ہے۔جو سن نہیں سکتے،دیکھ نہیں سکتے ان کے لیے IDA,RIEU کے تحت ادارہ موجود ہے۔

اس ادارے میں ایسے افراد کے لیے بھی دارالسکون میں تعلیم کی سہولت میسر ہے جو ذہنی طور پر معذور ہیں۔TCFیعنی دی سٹیزن فاؤنڈیشن نے یہاں ایسا اسکول کھول رکھا ہے جو ہر لحاظ سے ایک مثالی اسکول ہے۔

اس اسکول میں تعلیم پانے کے بعد بچے ایک سنہری مستقبل کے حقدار ٹھہرتے ہین،کوئی 1500کے قریب بچے اور بنچیاں اس اسکول میں تعلیم سے بہرہ ور ہوتی ہیں۔

اسی طرح ٹوپین اسپرٹ ٹرسٹ بھی یہاں پر ایک اعلیٰ تعلیمی اسکول کھولے ہوئے ہے جس کی فیس بہت مناسب اور ہر ایک کی پہنچ میں ہے۔ڈی ایم کے ایم فیملی کے تحت علاقے کی خواتین کے لیے سلائی کڑھائی اور بننے سنورنے کا ایک ادارہ قائم ہے جس کی تعلیم و تربیت سے فیض یاب ہو کر Women empowermentہو رہی ہے۔

محض 2500 روپے ماہانہ کے عوض ایک اور ادارے میں 7بہت اہم ہنر سکھائے جا رہے ہیں اور ہاں سرگودھین اسپرٹ ٹرسٹ نے بھی یہاں ایک پبلک اسکول کھول رکھا ہے جو مقامی طلباء کے علاوہ پورے پاکستان سے آنے والوں کو بہت معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ کر رہا ہے۔یہ بورڈنگ اسکول معیاری رہائش اور خوراک کی ذمے داری بھی پوری کر رہا ہے۔

تعلیم کے ساتھ صحت بھی بہت اہم ہے۔اس پروجیکٹ میںLRBT کے تحت فاطمید فاؤنڈیشن اور بلقیس مصحف فوجی فاؤنڈیشن اسپتال صحت کی سہولتوں سے آراستہ تھیلیسیمیا اور ہوموفیلیاکے ننھے مریضوں کی دیکھ بھال و علاج معالجے میں مصروف ہیں۔

ان دونوں اسپتالوں میں ماہر اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔تمام مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔وہ افراد جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ،ان کے لیے آغوش کے نام سے ایک چھتری موجود ہے۔راشد میموریل مائیکرو فنانس کی سہولت بھی دے رہا ہے۔

یہ فلاحی ادارہ اب صوابی میں ایم ایم عالم سے منسوب ایک پروجیکٹ لا رہا ہے۔ہمت اور عزم سے مجبور،بے کس،معذور افراد کی زندگیوں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے،جس طرح پاک فضائیہ کے افسروں نے اس کارِ خیر کا بیڑہ اُٹھایا ہے اسی طرح ہمیں بھی کارِ خیر کا کوئی نہ کوئی کام ضرور کرنا چاہیے۔

Similar Posts