بنگلہ دیش کے عبوری حکمران، سربراہ ، پروفیسر محمد یونس، ( جنہیں چیف ایڈوائزر بھی کہا جاتا ہے) اپنے وطن میں قومی انتخابات کا انعقاد کرکے اپنا وعدہ نبھا رہے ہیں ۔
عالمی شہرت یافتہ بنگلہ دیشی ماہرِ معیشت اوراقتصادیات میں نوبل انعام حاصل کرنے والے پروفیسر محمد یونس صاحب نے تقریباً18ماہ قبل یہ الیکشن کروانے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا۔ اِس دوران کئی اطراف و جوانب سے اُنہیں ترغیب دی گئی کہ ابھی الیکشن نہ کروائیں ، مگر بنگلہ دیشی سیاسی جماعتوں اور خصوصاً بنگلہ دیش کے نوجوان طبقات کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ اب یہ انتخابات عین وقت پر 12فروری 2026کو منعقد ہو رہے ہیں ۔
اگر یہ کہا جائے کہ 12فروری کو ہونے والے بنگلہ دیشی قومی انتخابات بنگلہ دیش کیGen Zکی دوسری بڑی کامیابی ہے تو اِسے بے جا نہیں کہا جائے گا۔ بنگلہ دیشیGen Z ( اعلیٰ تعلیم یافتہ بنگلہ دیشی نوجوان طبقات) کو پہلی بڑی کامیابی اُس وقت ملی تھی جب اُنھوں نے اگست2024 کو بنگلہ دیش کی سابق استبدادی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔
حسینہ واجد اور اُن کی جماعت (عوامی لیگ) کا اقتدار اور حکومت ختم ہو گئی تھی ۔ جان بچانے کے لیے حسینہ واجد اپنے سابق مربی اور سرپرست ملک، بھارت، فرار ہو گئی تھیں ۔ وہ اب بھی وہیں ، مودی جی، کے ہاں رُو پوش ہیں۔
اُن کے اور اُن کی مقتدر پارٹی کے بنگلہ دیش میں مظالم ، جرائم اور استبداد اتنے زیادہ تھے کہ بنگلہ دیش کا نوجوان طبقہ بالآخر بلبلا کر اُن کے خلاف اُٹھ کھڑا ہُوا ۔ حسینہ واجد کا ایک بڑا جرم یہ بھی تھا کہ وہ صرف اپنی پارٹی کو نوازے جا رہی تھیں ۔
بھارت کے ساتھ اُن کا ہر قدم پر بڑھتا تعاون بھی بنگلہ دیشی نوجوان طبقات کو نہائت گراں گزررہا تھا ۔ وہ صاف محسوس کررہے تھے کہ حسینہ واجد نے اپنے مفادات کی خاطر پورے بنگلہ دیش کو بھارت کے ہاں ’’رہن‘‘ رکھوا دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات نے حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے لیے بڑی جانی قربانیاں بھی دیں ۔اقوامِ متحدہ کے ادارےUNHCRکا کہنا ہے کہ ’’حسینہ واجد نے Gen Zکی بپھری تحریک کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے جو قیامت خیز تحاشہ تشدد کیا تھا،اِس میں 1400 سے زائد بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے ۔‘‘
اِس قتل و غارت گری میں انڈین اسٹیبلشمنٹ بھی برابر کی شریک تھی ۔ خون کی ندی ظالم شیخ حسینہ واجد کو لے ڈُوبی۔ اُن کے مستبد و غضبناک اقتدار کا سورج 5اگست2024ء کو غروب ہو گیا ۔حسینہ واجد کے اقتدار کا خاتمہ بنگلہ دیشی نوجوان طبقے ( جس کی عمر 18اور35سال کے درمیان ہے) کے سر بندھتا ہے۔
بھارت میں حسینہ واجد کی موجودگی ہی میں بنگلہ دیشی اعلیٰ عدالت نے اُنہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اُن پر سب سے بڑا یہی الزام ہے کہ اُنھوں نے اپنے دَورِ اقتدار میں احتجاجی طلبا کے خون سے بیدردی کے ساتھ ہولی کھیلی ۔ اِس خون نے حسینہ واجد کا 15سالہ ظالمانہ اقتدار ختم کر ڈالا۔
قدرت کے کھیل بھی عجب پُر اسرار ہیں ۔ وہی پروفیسر محمد یونس جو حسینہ واجد کی حکومتوں میں معتوب اور مغضوب ٹھہرائے گئے ، وہی حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے پر بنگلہ دیش کے عبوری حکمران بنا دیے گئے ۔
بنگلہ دیش کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بنگلہ دیش کے اکثریتی عوام نے متفقہ طور پر اُنہیں ، عبوری مدت کے لیے ، اپنا حکمران چُنا ۔بارہ فروری کو اب اُنہی کی زیر نگرانی عام قومی انتخابات ہو رہے ہیں ۔
نوجوان طبقہ اِن انتخابات میں مرکزی اور بنیادی کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے ۔ یہ نوجوان بنگلہ دیش کے ٹوٹل ووٹروں کا44فیصد بنتے ہیں ؛ چنانچہ ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 12فروری کے مذکورہ جنرل الیکشنز میں یہ نوجوان طبقہ پانسہ پلٹنے جارہا ہے ۔
انھیں انتخابات کی صورت میں ملک کے لیے نئی نوید بھی قرار دیا جارہا ہے ۔عوامی لیگ اور حسینہ واجد کا وجود پورے بنگلہ دیشی الیکشن سے خارج کیا جا چکا ہے ۔ اپنے دَورِ اقتدار میں حسینہ واجد نے اپنی مخالف سیاسی جماعتوںکے ساتھ جو سلوک کیا تھا، اب وہی ا قدامات حسینہ واجد اور اُن کی پارٹی (عوامی لیگ) کے خلاف بروئے کار لائے گئے ہیں ۔
حسینہ واجد کے دَورِ حکومت میں بنگلہ دیش کا الیکشن کمیشن بھی اپنا اعتبار اور وقار کھو چکا تھا ۔ کہا جاتا تھا کہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن ، بنگلہ دیشی عدالتیں، بنگلہ دیشی انتخابات اور بنگلہ دیشی آرمی شیخ حسینہ واجد کی مرضی اور اشارے پر بروئے کار آتی ہیں ۔
مگر 5اگست 2024ء کے خونی انقلاب کے بعد حالات یکسر بدل گئے ۔ آج بنگلہ دیش کے قومی الیکشن کمیشن کا مزاج بھی بدل چکا ہے اور بنگلہ دیشی اسٹیبلشمنٹ کا بھی ۔ اِس مزاج کی تبدیلی میں بنگلہ دیش کے طلبا کے خون نے جوہری کردار ادا کیا ہے ۔
اب بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے ایک اہم رکن ، ہمایوں کبیر، یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ 2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد پہلی بار اب12فروری کو اکثریتی بنگلہ دیشی عوام اپنی رغبت اور مرضی کے ساتھ ووٹ ڈالیں گے ۔‘‘
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے صدر (اے ایم ایم ناصر الدین) بھی راہِ راست پر آ چکے ہیں ۔ اب نئی اُمنگوں اور نئی اُمیدوں کے درمیان بارہ فروری کے عام انتخابات کا یُدھ پڑ رہا ہے۔ بِلاشبہ بارہ فروری کے بنگلہ دیشی انتخابی یدھ میں پاکستان کے لیے بھی نئے انداز سے نئی اُمنگیں پیدا ہونے کے امکانات ہیں ۔ بھارت پر مگر مایوسی اور پژمردگی کے سائے چھائے ہیں ۔
اِس وقت بنگلہ دیش کی کُل آبادی تقریباً18 کروڑ ہے۔ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق:’’ ملک میں 12 کروڑ77لاکھ ووٹر رجسٹرڈ ہیں ۔ خواتین و حضرات ووٹرز کی تعداد تقریباً نصف ، نصف بنتی ہے ۔ اِن میں 5کروڑ 60لاکھ ایسے ووٹر ہیں جن کی عمریں 18سے 37سا ل ہیں ۔
یہ کُل ووٹروں کا44فیصد بنتے ہیں ۔ بنگلہ دیش میں 42ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ یہی پولنگ اسٹیشن بنگلہ دیش کی مرکزی قومی اسمبلی( جاتیہ سنگسد) کی300سیٹوں کے لیے، براہِ راست، فیصلہ کن کردار ادا کریں گے ۔ ‘‘اِن انتخابات کے لیے ، پہلی بار ، بنگلہ دیش میں بے پناہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
اِس سے پہلے تو 2014ء اور 2018ء کے عام انتخابات ، مبینہ طور پر ، حسینہ واجد نے چرا لیے تھے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش کی اکثریتی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کا مقاطع کر دیا تھا؛ چنانچہ اِس سے بھی حسینہ واجد نے پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔ 2018کے انتخابات کو توNight,s Voteکہا جاتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں حسینہ واجد کی سازش سے ووٹوں کی صندوقچے ’’عوامی لیگ‘‘ کے اُمیدواروں کے لیے بھر دیے گئے تھے ۔
بارہ فروری انتخابات کے لیے یوں تو بنگلہ دیش کی درجن سے زائد سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں، مگر اصل اور بڑی سیاسی و انتخابی پارٹیاں تین ہی ہیں:بی این پی ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)، جماعتِ اسلامی اور این سی پی ( نیشنل سٹیزن پارٹی )۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمن ہیں جو دراصل پارٹی کے بانی اور سابق بنگلہ دیشی صدر و آرمی چیف جنرل ضیاء الر حمن کے صاحبزادے ہیں ۔
اُن کی والدہ محترمہ (خالدہ ضیاء) بھی بنگلہ دیش کی دو بار وزیر اعظم منتخب ہُوئیں۔ ابھی حال ہی میں اُن کا انتقال ہُوا ہے۔ طارق رحمن چند ہفتے قبل ہی برطانیہ سے17سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس ڈھاکہ پہنچے تھے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جناب شفیق الرحمن ) بھی بھاری جیت کی اُمید کے ساتھ میدان میں ہے۔ جماعتِ اسلامی نے ہو شیاری کے ساتھ ’’این سی پی‘‘ سے انتخابی اتحاد قائم کر رکھا ہے ۔ این سی پی دراصل اُن نوجوانوںکی نئی پارٹی ہے جنھوں نے اگست 2024 میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ اُلٹا تھا ۔ اِس کے مرکزی رہنما ناہید اسلام ہیں۔ اُن کا کہنا ہے:’’جماعتِ اسلامی کے ساتھ ہمارا نظریاتی نہیں، اسٹریٹجک اتحاد ہے۔‘‘