مصاحب

حکومت نے گھریلو تشدد ( ڈومیسٹک وائلنس) کا بل منظورکر لیا ہے جس کے تحت بیوی کو گھورنا، گالی دینا، خرچہ روکنا یا طلاق کی دھمکی دینا جرم قرار دیا گیا ہے اور جرم میں سزا تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔

سب سے دلچسپ دفعہ اس بل میں ’’ بیوی کو گھورنا‘‘ ہے، یعنی اگر شوہر نے پیار سے بھی بیوی کو بغور دیکھا تو کیا اس پر بھی ’’گھورنا‘‘ جرم لگ جائے گا؟

ایسا لگتا ہے جیسے بیوی کو گھورنے کی دفعہ لگانے پر حکومت نے گواہان بھی مقررکردیے ہوں۔ جہاں تک گھریلو تشدد کا تعلق ہے تو اس کا شکار عموماً وہ کمزور عورتیں ہوتی ہیں، جن کے میاں چور یا نشئی ہوتے ہیں، میری کام والی کی عمر پچاس سال ہے، شوہر نشئی ہے، جب وہ غریب عورت پیسے دینے کو منع کرتی ہے تو بدبخت اسے مارتا ہے، گھر کے برتن، بستر اور لوہے کا پلنگ بیچ کر کھا گیا۔ 

مجبوراً وہ اپنی بیٹی کے پاس رہنے لگی، کیوں کہ داماد اچھا ہے۔ کمزور عورت ہی گالی کھاتی ہے اور اسے ہی طلاق کی دھمکی بھی ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت عاجز آ کر طلاق لینا چاہے تو اس کی کفالت کی ذمے داری کون لے گا؟

 اس بل میں یہ بھی ہے کہ بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہے۔ ہمارے سماج میں خاص کر انڈیا، بنگلہ دیش اور پاکستان میں لڑکی شادی ہو کر سسرال آتی ہے اور سسرالی عزیزوں کے ساتھ رہتی ہے۔

سن ساٹھ کی دہائی کی لڑکیاں بلا چوں چرا جوائنٹ فیملی سسٹم میں خوشی سے رہتی تھیں، کیوں کہ انھیں ان کی دادی، نانی اور مائیں یہی نصیحت کرکے سسرال بھیجتی تھیں کہ ’’ ساس سسر کی اور شوہر کی خدمت کرنا اور کسی سے بھی بدتمیزی سے پیش نہ آنا‘‘ اور اسی لیے لڑکیاں گھروں میں بستی تھیں، اب بھی دیہات اورگاؤں میں جوائنٹ فیملی سسٹم ہی نظر آتا ہے۔

چھوٹے موٹے جھگڑے ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہ سب وقتی ہوتا ہے، اسی لیے بوڑھے ماں باپ در بدر نہیں ہوتے۔ لیکن جدید دور میں خاص کر شہروں میں معاملات بالکل الٹ ہیں۔ شہری لڑکیوں کو ان کے ماں باپ یہ کہہ کر رخصت کرتے ہیں کہ ’’ سسرال میں کسی کو منہ نہ لگانا اور جتنی جلدی ہو سکے شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کر دینا، جب تک شوہر الگ گھر میں رکھنے پر راضی نہ ہو، بس اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑی رہنا‘‘ اور پھر یہی ہوتا ہے۔ 

دلہن بیگم بات بات پر منہ بسورے پڑی رہتی ہیں، سب سے زیادہ شکایتیں ساس بے چاری سے ہوتی ہیں۔ یقین کیجیے یہ جملے میں نے خود ایک فیملی کی شادی میں رخصتی کے وقت والدین کے منہ سے سنے۔

شادی سے پہلے ساس نندوں کے واری صدقے جانے والی لڑکی اور اس کے والدین نکاح کے بعد ہی رویہ بدل لیتے ہیں اور میکے آنے پر بیٹی کی خوب خوب برین واشنگ کی جاتی ہے۔ آج کے ماحول میں ننانوے فی صد لڑکیاں اپنی ماؤں کی پڑھائی گئی پٹی کی بنا پر الگ گھر میں رہنا چاہتی ہیں۔

صرف ایک فی صد ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں، البتہ آج کل جب کہ خواتین ہر شعبے میں جاب کر رہی ہیں تو صرف دو فی صد سسرال میں ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ بچوں کو دادی، پھوپھی کے پاس چھوڑ کر سکون سے جاب پر جا سکیں، لیکن باقی اٹھانوے فی صد بچوں کو بھی میکے میں چھوڑ کر جانے کو ترجیح دیتی ہیں۔

اب ذرا غور کیجیے کہ بوڑھے ماں باپ کا بیٹے کے علاوہ کوئی سہارا نہ ہو اور بیٹا والدین کو تنہا چھوڑ کر جانے پر آمادہ نہ ہو جو کہ ایک جائز بات ہے، تو کیا ایسی صورت میں شوہر کو تین سال قید کی سزا ہوگی؟ اور اگر بیوی کی شکایت کرنے پر اگر شوہر کو سزا ہو گئی تو بیوی بچوں کے اخراجات کون پورے کرے گا؟

کیا حکومت یہ ذمے داری لے گی؟ کیا حکومت ایسے اقدامات کو درست سمجھتی ہے جس میں لڑکا بوڑھے اور بیمار والدین کو اکیلا چھوڑ کر الگ گھر میں بیوی کو رکھے؟ کچھ گھرانے ایسے بھی مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں لڑکے کی آمدنی اتنی نہ ہو جس میں علیحدہ گھر کا کرایہ ادا کیا جاسکے۔ اس بل میں والدین کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا، گویا:

اس بل میں مردوں کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا، خاص کر شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہیں، بات بات پر روٹھ کے میکے جانا بھی قابل سزا گردانا چاہیے۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار ہوتا ہے بلکہ مرد ہی ہوتا ہے، ہوٹلوں میں ہر ہفتے کھانا کھلانا، باربی کیو کے لیے لے جانا، شاپنگ کرانا، مہنگے مہنگے تحائف کا مطالبہ کرنا، میکے میں ہونے والی تقریبات میں قیمتی تحائف کی فرمائش کرنا بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

مرد بھی بدتمیز اور نک چڑھی بیوی کو صرف بچوں کی وجہ سے برداشت کرتا ہے، تاکہ گھر بسا رہے۔ یہ بل دراصل ان خواتین کی ایما پر پیش کیا ہوا لگتا ہے جو مغرب زدہ ہیں اور شوہر کو اپنا غلام سمجھتی ہیں۔ دولت مند خواتین کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان میں اکثر طلاق یافتہ ہیں۔

 اس بل کی وضاحت کی گئی ہے کہ خواتین کی جانب سے دائر شکایت پر سات دن کے اندر سماعت اور نوے دن کے اندر فیصلہ سنانا لازمی ہوگا۔ چھ ماہ سے تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی، جب کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید سزا دی جا سکے گی۔

غالب کا ایک شعر ہے:

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے؟

یہ شعر اس وقت مجھے کیوں یاد آیا؟ یہ بھی سن لیجیے، ویسے تو پاکستان میں شاہ کے مصاحب ہزاروں ہیں لیکن اس وقت جو ’’ شہ کا مصاحب‘‘ یاد آ رہا ہے وہ یوں ہے کہ راشد منہاس روڈ کراچی میں ایک شاپنگ مال کے باہر ایک لفٹر کھڑا تھا، جو سامان کی ڈلیوری کے لیے شاپنگ مال آیا تھا، لفٹر کو اندر جانا تھا، باہر ایک سفید کار کھڑی تھی، لفٹر ڈرائیور نے کار والے شخص کو گاڑی تھوڑی آگے بڑھانے کو کہا تاکہ وہ اندر جا سکے۔ 

اس بات پر کار سوار گاڑی سے نیچے اتر آیا اور گالم گلوچ کرتے ہوئے ٹی ٹی پستول لوڈ کرتے ہوئے لفٹر ڈارئیور کی طرف بڑھا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا اور اسے لفٹر سے نیچے کھینچ لیا اور بولا ’’تم مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام فلاں ہے اور میں فلاں کا بھانجا ہوں، تمہیں اچھی طرح دیکھ لوں گا۔‘‘ لفٹر ڈرائیور نے پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا، شاپنگ مال کی انتظامیہ نے بھی یہ واقعہ دیکھا اور پھر اس واقعے کی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی۔

دیکھا آپ نے، مقدمہ تو درج ہو گیا لیکن ابھی تک یہ پتا نہیں چلا کہ ملزم پر کوئی جرمانہ یا سزا ہوئی یا نہیں۔ پہلے ایسے واقعات زیادہ تر اسلام آباد میں وقوع پذیر ہوتے تھے، اب کراچی بھی اس کی زد میں آ گیا، کار لفٹر کی ہمت کی داد دینی چاہیے کہ اس نے مقدمہ درج تو کروا دیا، خواہ نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا ہو۔

Similar Posts