’’گبر ‘‘کی واپسی ناگزیر

ریاست کی مضبوطی کا دارومدار قانون کی عملداری کے پیمانے پر ناپا جاتا ہے، اور قانون کی عملداری کا عملی پیمانہ اور چہرہ پولیس کی کارکردگی ہوتی ہے۔ پولیس سے عام شہری کا سب سے زیادہ براہِ راست واسطہ پڑتا ہے اور عوام کے دلوں میں ریاست کا تصور اکثر پولیس کے رویّے سے جڑا ہوتا ہے۔

پولیس محکمے کے قیام کا مقصد معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا، جرائم کی روک تھام، شہریوں کی جان و مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا اور قانون کو بلا امتیاز نافذ کرکے ریاست کی عملداری قائم کرنا ہے جس کے لیے پولیس کو آئین و قانون کے مطابق اختیارات دیے گئے ہیں، پولیس کو دیے گئے اختیارات اسی وقت بامقصد اور موثر ثابت ہوںگے جب ان کا استعمال قانون اور آئین کی حدود و قیود میں ہوگا۔

میرا آبائی ضلع صوابی جو جرائم خاص کر قتل و قتال اور منشیات فروشی کے لحاظ پاکستان کے بدترین ضلعوں میں آتا ہے، عوامی مطالبے اور صوابی کے ڈی پی او کی خواہش پر ایک نڈر اور دبنگ پولیس آفیسر عبدالعلی خان کو ایس ایچ او پولیس اسٹیشن صوابی تعینات کیا گیا۔ ان کی بہادری اور جرم سے نفرت کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں انھیں “گبر” کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

پولیس کسی فرد، گروہ یا طاقتور طبقے کی محافظ نہیں پورے معاشرے کی نگہبان اور محافظ ہے۔ آئینِ پاکستان پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، بالخصوص خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو ظلم، زیادتی اور استحصال سے بچانے کے لیے کردار ادا کرے۔

اگر کوئی پولیس آفیسر تعیناتی کے بعد اپنے علاقے میں فحاشی، منشیات اور قتل و غارت گری کی روک تھام کے لیے مہم چلائے اور آہنی ہاتھوں سے مجرموں سے نپٹنے کے عملی اقدامات کرے تو یہ ان کے فرائض منصبی کے علاوہ معاشرے پر احسان ہوگا۔

میرا آبائی ضلع صوابی چونکہ جرائم خصوصاً قتل و قتال اور منشیات فروشی کے لحاظ پاکستان کے بدترین ضلعوں میں آتا ہے، اس لیے یہاں ایک اچھے‘بہادر اور نیک نام پولیس افسرکی ضرورت ہے جو کسی کے دباؤ میں نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ ہی اسے دولت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا جا سکے۔گبر ایسا ہی پولیس افسر ہے۔

 انھوں نے علاقے کے معززین کے سامنے کھلی کچہری میں معززین علاقہ کو سننے کے بعد تقریر کی جس کا ایک ایک حرف ایک طرف صوابی کے غیور اور مجرموں، منشیات فروشوں کے نرغے میں پھنسی عوام کے دلوں کی آواز اور آرزو تو دوسری طرف جرائم پیشہ افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے سروں پر آسمانی بجلی گرنے کی مترادف تھی۔

پولیس افسر کا یہ اعتراف کہ ’’میرے فرائض منصبی کا تقاضا اور بحیثیت مسلمان میری ذمے داری ہے کہ میں عوام کی جان و مال اور عزت و ناموس کی حفاظت کروں اور ہر جرم نفرت کے جرائم پیشہ افراد کو نشان عبرت بناؤں‘‘۔

اسی کھلی کچہری میں یہ شکایات سامنے آئیں کہ کچھ عرصہ سے صوابی میں اوباش نوجوانوں کا بازاروں میں خواتین کو تنگ کرنے کا رحجان بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ہر شریف النفس صوابیوال پریشان ہے۔ان شکایات کے جواب میں پولیس افسر نے کہا کہ صوابی کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں مجھے سگی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی طرح عزیز اور ان کی عزتوں کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے۔

انھوں نے یہ درخواست بھی کی کہ ’’فتنوں کا دور ہے، اگر خواتین بازاروں میں اپنے والد، شوہر یا بیٹے یعنی کسی محرم کے ساتھ آئیں گی تو وہ محفوظ محسوس کریںگی اور ہمیں مادر پدر آزاد اوباش نوجوانوں کو نکیل ڈالنے میں آسانی ہوگی‘‘۔

میری نظر میں ایسا کہنا کوئی جرم یا معیوب بات نہیں ہے بلکہ پولیس کے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ اور علاقے کی پختون روایات کے عین مطابق شرفاء کے لیے صائب مشورہ ہے اور اوباش نوجوانوں اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ تھی۔

 چند سفید پوشوں اور سیاست دانوں کو اس علاقے کے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں۔ میں نہیں مانتا کہ صوابی میں کوئی شخص خواتین کے بازاروں میں اپنے محرم کے ساتھ آنے کی تجویز کو برا مانے لیکن چند بااثر لوگوں نے خواتین کے معاملے پر مشورے کو رجعت پسند ی اور طالبانائزیش کا نام دینا شروع کردیا ۔

یوں متعلقہ پولیس افسر کا تبادلہ کردیا گیا، مگر تصویر کا دوسرا رخ یوں سامنے آیا کہ پولیس افسر کی حمایت میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے ۔

ادھر بااثر لوگ خیبر پختونخوا کے گورنر صاحب کو  ٹرانسفر کے معاملے میں ملوث کرنے میں کامیاب ہوگئے ، بطور صوابیوال میں تو اتنا کہوں گا کہ اگر گورنر صاحب اس چھوٹے سے معاملے میں نہ ہی پڑیں توبہتر ہے کیونکہ بعض نام نہاد لبرلز حقوق نسواں کے لبادے میں اس ایشو کو بلاوجہ آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہ لوگ کسی کے ہمدرد یا حامی نہیں ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ہمیشہ ریاستی رٹ پر تو سوال اٹھاتا ہے مگر جرائم کے شکار عام شہری کی تکلیف اسے نظر نہیں آتی۔ منشیات سے تباہ ہونے والے نوجوان، مقتول کی آہ فغاں، خوف میں جینے والے تاجر اور شہری ان کے بیانیے کا حصہ نہیں بنتے۔

ایک پولیس افسرکے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ معاشرے میں طاقت، اخلاق اور قانون کے درمیان توازن کتنا بگڑ چکا ہے۔ میں ہر لمحہ صوابی کے شرفا اور حقیقی عوامی نمائندوں سے رابطے میں ہوں، میرے سمیت ہر ذی شعور صوابیوال نے مذکورہ پولیس افسر کے بارے میں منفی بات نہیں کی ہے۔

ٹرانسفر ہونے والے پولیس افسر نے خود بھی درخواست کی ہے کہ لوگ اپنا احتجاج ختم کریں۔ بہرحال اس معاملے سے باخبر ہر حساس مقامی شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ کیسا نظام ہے، جہاں بااثر طبقے کو تو فوراً سنا جاتا ہے مگر متوسط طبقے کے لوگوں کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

ہمارے معاشرے میں عورت قتل ہوجائے ، اجتماعی زیادتی کا شکار ہوجائے یا بازاروں میں ہراساں کیا جائے تو معاملہ برق رفتاری سے دب جاتا ہے کیونکہ نہ کسی میں جرائم روکنے کی ہمت ہے نہ سزا کا عبرتناک نظام موجود ہے۔ عوام اسے سرکار کی عدم توجہی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ دوسری طرف اگر کوئی پولیس افسر اپنا فرض یا ڈیوٹی نبھانے کا ارادہ ظاہر کرے تو اسکا تبادلہ کردیا جائے یا اسے اپنے رنگ میں رنگ لیا جائے۔

 خیبر پختونخوا حکومت کے ذمے داران اپنے آئینی و قانون حقوق و فرائض دیکھیں کیا وہ ان پر پورا اتر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی سرکاری افسر کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا ، کیا ڈیجیٹل دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا ہے،کیا اس پر قانون کو حرکت میں نہیں آنا چاہیے؟

جرم سے نفرت اور امن کے داعی پولیس اسٹیبلشمنٹ کو اس معاملے کا میرٹ پر نوٹس لینا چاہیے۔ مجھ سے ذاتی طور جو ہوسکا اور جس پر ملکف تھا وہ میں نے کردیا، صوابی کے عوام کی آواز آئی جی خیبرپختونخوا سمیت محکمہ پولیس اور متعلقہ اداروں میں موجود اپنے دوستوں تک فرداً فرداً پہنچائی ہے ، اب آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ گبر کی واپسی ہوتی یا نہیں حالانکہ یہ ناگزیرہے۔

Similar Posts