پاکستان اور قازقستان :معاشی شراکت داری

پاکستان اور قازقستان نے تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے 5 سالہ روڈ میپ اورآیندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، صحت،کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی اورمصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کردیے گئے۔

جب کہ پاکستان سے روس تک ٹرانسپورٹ کوریڈور بنے گا، قازقستان کے صدر نے کہا کہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں کو بندرگاہوں تک رسائی دے سکتے ہیں، اسٹرٹیجک شراکت داری معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل، ریل اور روڈ منصوبہ گیم چینجر ہوگا۔

پاکستان اور قازقستان کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح ملاقاتیں، اسٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کا اعلان اور درجنوں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض سیاسی بیانات یا رسمی سفارتی روابط کے بجائے معاشی مفادات، علاقائی رابطہ کاری اور طویل المدتی شراکت داری کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اندرونی طور پر معاشی مشکلات، بیرونی قرضوں کے دباؤ اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی طاقتوں کی صف بندی کا سامنا ہے، وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست قازقستان کے ساتھ تعلقات میں یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

قازقستان وسطی ایشیا کا سب سے بڑا رقبہ رکھنے والا اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جو تیل، گیس، یورینیم اور دیگر معدنی ذخائر کے باعث عالمی معیشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو ملانے والا ایک قدرتی جغرافیائی پل ہے، جس کی بندرگاہیں عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی کشش رکھتی ہیں۔ ان دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا دراصل جغرافیہ اور معیشت کے اس فطری اشتراک کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے جسے ماضی میں مختلف سیاسی، سیکیورٹی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث پوری طرح بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔

پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، صحت، کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک تعلقات کو محدود دائرے سے نکال کر ہمہ جہت بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔

خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں آیندہ ایک سے دو برس میں تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ایک خوش آئند مگر چیلنجنگ اعلان ہے۔

اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم اس ہدف سے کہیں کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی محنت، مربوط حکمت عملی اور مستقل مزاجی درکار ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دے سکتا ہے، محض سفارتی خوش گفتاری نہیں بلکہ ایک عملی معاشی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

اگر گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا کے لیے حقیقی معنوں میں قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے تو پاکستان نہ صرف ٹرانزٹ ٹریڈ سے خاطر خواہ آمدن حاصل کر سکتا ہے بلکہ علاقائی تجارت کا ایک مرکزی مرکز بھی بن سکتا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان سے روس تک مجوزہ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ منصوبہ اگر عملی جامہ پہن لیتا ہے تو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے نقشے کو بدل سکتا ہے۔

ریلوے اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان سے جوڑنا ایک ایسا خواب ہے جس پر عشروں سے بات تو ہوتی رہی ہے مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔

اس بار اگر واقعی سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی، سرمایہ کاری کو یقینی بنایا گیا اور سیکیورٹی و انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا گیا تو یہ منصوبے پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں پاکستان نے کئی علاقائی منصوبوں میں تاخیر، عدم تسلسل اور سیاسی عدم استحکام کے باعث مواقع گنوائے ہیں، اس لیے اس بار صرف اعلانات پر اکتفا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کی جانب سے پاکستان کو قابلِ اعتماد دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار قرار دینا اور دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا سفارتی لحاظ سے ایک اہم کامیابی ہے۔

یہ اعتراف اس حقیقت کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور تربیت نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنا رہی ہے۔

تاہم دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ پاکستان اپنی معاشی، تعلیمی اور تکنیکی صلاحیتوں کو بھی اسی انداز میں فروغ دے تاکہ تعلقات کا توازن برقرار رہے اور شراکت داری محض عسکری نوعیت تک محدود نہ ہو۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، اسکالرشپس اور طبی تربیتی پروگرام نہ صرف انسانی وسائل کی ترقی میں معاون ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات کی بنیاد بھی فراہم کریں گے۔

کھیلوں کے شعبے میں تعاون نوجوان نسل کو قریب لانے اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو کسی بھی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے ناگزیر عنصر ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی آج کے دور کا ایک عالمی چیلنج ہے اور پاکستان اس حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ قازقستان بھی موسمیاتی تغیرات، پانی کی قلت اور زرعی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

اس پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی تعاون نہ صرف بروقت بلکہ ناگزیر ہے۔ مشترکہ تحقیق، گرین ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار ترقی کے منصوبے مستقبل میں دونوں اقوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی جیسے جدید شعبوں میں تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور قازقستان مستقبل کی دنیا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت کے بغیر آج کسی بھی ملک کے لیے ترقی کا تصور ممکن نہیں۔

پاکستان کی نوجوان آبادی اور قازقستان کی تکنیکی استعداد اگر یکجا ہو جائیں تو یہ شراکت داری خطے میں ڈیجیٹل جدت کا ایک نیا باب رقم کر سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، سرمایہ کاری کا تحفظ اور نجی شعبے کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسٹرٹیجک شراکت داری کے معاہدے کو انتہائی اہم قرار دینا بجا ہے، مگر اصل اہمیت اس معاہدے کے عملی نفاذ میں مضمر ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے معاہدے تو طے پا جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کی رفتار سست رہتی ہے، جس کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔

اس بار ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مفاہمتی یادداشت کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائن اور نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا جائے تاکہ یہ شراکت داری محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے۔

غزہ کے حوالے سے دونوں ممالک کا یکساں مؤقف اور غزہ بورڈ آف پیس کی رکنیت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور قازقستان عالمی امن اور انصاف کے معاملات میں بھی ہم آواز ہیں۔ مسلم دنیا کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی سفارتی کوششیں کرے، تاکہ مظلوم اقوام کے لیے حقیقی ریلیف ممکن ہو سکے۔

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان حالیہ پیش رفت ایک مثبت، امید افزا اور دور رس اثرات کی حامل سفارتی کامیابی ہے۔

یہ شراکت داری اگر سنجیدگی، دیانت اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائی گئی تو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ پورے خطے میں اقتصادی استحکام، رابطہ کاری اور امن کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرے اور وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات کو محض امکانات کے دائرے سے نکال کر عملی حقیقت میں بدل دے۔ اگر اس موقع کو ضایع کیا گیا تو یہ تاریخ کا ایک اور باب ہوگا جہاں امکانات تھے مگر عزم اور عمل کی کمی نے سب کچھ ادھورا چھوڑ دیا، اور اگر درست سمت میں قدم اٹھائے گئے تو یہی شراکت داری پاکستان کے معاشی مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Similar Posts