عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2023 میں بھی شینزین کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایریک اور ان کی دوست ایملی نے یہ تکلیف دہ تجربہ جھیلا تھا۔
جوڑے کو ہوٹل کے کمرے میں اُس وقت معلوم نہیں تھا کہ ان کے سب سے نجی لمحات ایک چھپے ہوئے کیمرے سے ریکارڈ ہو رہے ہیں اور یہ مواد ہزاروں افراد کے لیے آن لائن دستیاب ہوگا۔
ایریک نے بتایا کہ تین ہفتے قبل وہ ایک سوشل میڈیا چینل پر ویڈیوز دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے اور ایملی کے ہوٹل قیام کی ویڈیو نظر آئی۔
یہ ویڈیو ٹیلی گرام پر دستیاب تھی جہاں صارفین خفیہ کیمروں سے ریکارڈ کی گئی ہوٹل روم کی سرگرمیوں کو دیکھ کر تبصرے اور تنقید کرتے ہیں۔
متاثرہ جوڑا اب عوامی مقامات پر ہمیشہ ٹوپی پہن کر چلتا ہے اور ہوٹل میں قیام سے بھی گریز کرتا ہے۔
ایریک نے کہا کہ وہ اب ان ٹیلیگرام چینلز پر نازیبا فلمیں نہیں دیکھتا لیکن خوف کے باعث کبھی کبھار چیک کرتا ہے کہ کہیں ان کی ویڈیو دوبارہ منظر عام پر نہ آجائے۔
ایریک اور ایملی کے تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صنعت کس طرح کام کرتی ہے۔
جن میں سے ایک “AKA” کو سب سے معروف ایجنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے ذریعے صارفین کو ماہانہ فیس کے عوض ہوٹل روم کی لائیو ویڈیوز تک رسائی ملتی ہے۔
یہ لائیو اسٹریم ہوٹل کے برقی نظام سے جڑے خفیہ کیمروں سے حاصل کی جاتی ہیں اور صارفین پچھلی ویڈیوز بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ٹیلیگرام پر ایک چینل کے ذریعے ہزاروں افراد نے اس مواد تک رسائی حاصل کی اور اس میں شامل صارفین جوڑوں کے رویے پر تنقید کرتے اور ان کی ظاہری شکل، بات چیت اور جنسی کارکردگی کی قیمت لگاتے ہیں۔
خواتین کو تو عموماً قابل اعتراض الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔
چین میں اس طرح کی “سپائی کیم پورن” کم از کم ایک دہائی سے موجود ہے حالانکہ نازیبا ویڈیوز بنانے اور ان کی تقسیم غیر قانونی ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں یہ مسئلہ سوشل میڈیا پر کافی زیر بحث رہا ہے اور صارفین نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کس طرح چھوٹے کیمرے پہچانے جا سکتے ہیں۔
یہاں تک کہ کچھ افراد نے تو ہوٹل روم میں ٹینٹ لگا کر بھی اس خطرے سے بچنے کی کوشش کی ہے۔
بی بی سی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ AKA جیسے ایجنٹس اعلیٰ سطح کے “کیمرا مالکان” کے لیے کام کرتے ہیں جو کیمرا نصب کرنے اور لائیو اسٹریم پلیٹ فارم کو منظم کرتے ہیں۔
AKA نے ٹیلیگرام چینلز کے ذریعے لاکھوں کی آمدنی حاصل کی حالانکہ چین میں خفیہ کیمروں کے فروخت اور استعمال پر سخت قوانین موجود ہیں۔