نئی سیاسی حکمت عملی کی ضرورت

31 جنوری کی صبح بلوچستان کے لیے قیامت کی صبح تھی۔ کوئٹہ سمیت 12 شہر دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ دہشت گردوں نے 12 شہروں کی سڑکوں پر قبضہ کیا، بینکوں اور تھانوں کی عمارتوں کو تباہ کیا گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی کارروائی میں 145دہشت گرد مارے گئے اور کچھ گرفتار ہوئے۔ گوادر میں ہونے والا تاریخی کتب میلہ منسوخ کردیا گیا۔

کراچی اور مختلف شہروں سے اس کتب میلہ میں آنے والے افراد گوادر میں پھنس کر رہ گئے اورکئی دنوں تک ہوٹلوں میں مقیم رہے۔ بلوچستان آنے والے تمام زمینی راستے بند ہوگئے۔ حتیٰ کہ ڈیرہ غازی خان سے بلوچستان جانے والی سڑک بھی بند رہی۔ سیکڑوں ٹرک اور بسیں بلوچستان جانے والی شاہراہوں پر کئی دنوں تک رکی رہیں، کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی۔ کئی مریضوں کو کراچی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ان حملوں میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی کوئٹہ میں ہونے والی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچ گئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بلوچستان میں امن قائم ہوگیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں نے اطلاعات فراہم کی تھیں اور پھر ایک دن پہلے سے ایک آپریشن بھی شروع ہوا تھا مگر 12 شہروں میں دہشت گردوں کا داخل ہونا ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت کو امن و امان قائم کرنے میں دہشت گردوں کا سامنا ہے۔ اس حملے کی سازش افغانستان میں تیارکی گئی تھی جس سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں کے مکین خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ 

بلوچستان گزشتہ 26 برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ اس صدی کے آغاز پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس مری کے قتل ، مری قبیلہ کے سردار خیر بخش مری کی قتل کے مقدمے میں گرفتاری اور پھر مری قبیلہ کے چند افراد کے لاپتہ ہونے سے بدامنی کا آغاز ہوا۔ سابق صدر پرویز مشرف کی بلوچستان کے بارے میں ناقص پالیسی سے صورتحال خراب تر ہوتی چلی گئی۔ بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ، اسکندر مرزا کے دور میں وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالنے والے اکبر بگٹی ہمیشہ پاکستان کے حامی رہے۔

انھوں نے پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ اقتدار میں (جب بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برطرف ہوئی اور صوبہ پھر ایک آپریشن کا شکار ہوا تھا ) بلوچستان کے گورنرکا عہدہ سنبھالا تھا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے اور سوئی گیس کی رائلٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ 26 اگست 2006ء کو ایک آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد علیحدگی پسند عناصرکو نئی زندگی مل گئی اور اس دوران برسر ِاقتدار آنے والی حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود بلوچستان کے حالات روز بروز خراب ہوتے چلے گئے۔

جب 2013ء میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ کو بلوچستان میں حکومت بنانے کا موقع دیا ۔ یہ گزشتہ 26 برسوں کے دوران اسلام آباد کی حکومت کا بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کا سب سے بہترین فیصلہ تھا۔ ڈاکٹر مالک نے جلاوطن بلوچ رہنماؤں سے لندن اور زیورخ میں جاکر مذاکرات کیے۔ ڈاکٹر مالک کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے تھے۔ کئی جلاوطن رہنماؤں نے وطن واپسی کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا۔

بقول ڈاکٹر مالک ان میں سے بعض رہنماؤں کے مطالبات تو ان کے ضلع کا ڈپٹی کمیشنر بھی حل کرسکتا تھا، یوں پہلی دفعہ کوئٹہ کی حکومت اور سرمچاروں کے درمیان مفاہمت کی ایک امید پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے خاصی کوشش کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ جو کراچی پریس کلب کی دیوار کے ساتھ لگایا گیا تھا، ڈاکٹر مالک خود وہاں تشریف لے گئے مگر ان کی حکومت اچانک ختم کردی گئی۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پھر نہ تو کوئٹہ میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے نہ اسلام آباد کے حکمرانوں نے بلوچستان میں بدامنی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر دن بلوچستان کے لیے سیاہ دن ثابت ہوتا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بلوچوں نے اپنے تشخص کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی تھی۔ رند قبیلہ کے سردار چاکر خان رند نے دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کو دہلی کے تخت پر فائز کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ بہت سے بلوچ جو چاکر خان کے ساتھ دہلی گئے تھے، وہ ہندوستان میں آباد ہوگئے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان دو بلوچ سرداروں کے نام پر یہ شہر آباد ہوئے، خود چاکر خان کا انتقال ساہیوال میں ہوا، مگر مغل بادشاہ کبھی بلوچستان پر اپنی مکمل عملداری قائم نہیں کرسکے تھے۔ بلوچ قبائل مسلسل انگریز سرکار کے خلاف جنگ و جدل میں مصروف رہے۔ انگریز حکومت نے بعض بلوچ سرداروں کو ساتھ ملا کر کوئٹہ شہر تک اپنی حکومت قائم کر لی تھی مگر باقی بلوچستان میں مختلف آزاد ریاستیں قائم تھیں۔ قلات کے علاوہ ناران اور لسبیلہ وغیرہ آزاد ریاستیں ہی رہیں۔ خان آف قلات نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بیرسٹر محمد علی جناح کو اپنا وکیل مقررکیا تھا۔

جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو قلات کے منتخب دیوان میں میر غوث بخش بزنجو نے تقریر کرتے ہوئے بلوچستان کی علیحدہ حیثیت پر زور دیا تھا۔ خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم افغانستان چلے گئے تھے۔ سابق صدر اسکندر مرزا نے جو سیاسی گٹھ جوڑ کے ماہر سمجھے جاتے تھے، خان آف قلات کو آزادی کا اعلان کرنے پر اکسایا تھا۔ خان آف قلات کی بغاوت کو روکنے کے لیے بلوچستان میں پہلا آپریشن ہوا تھا۔ اس آپریشن کے دوران تمام بلوچ قیادت کو پابند سلاسل کردیا گیا تھا۔ میر غوث بخش بزنجو کو کرنسی نوٹوں پر نعرے لکھنے پرکئی سال قید کی سزا دی گئی اورکنگ آف جھلاوان سردار نوروز خان جو پہاڑوں پر چلے گئے تھے، ان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا گیا تھا۔

سردار نوروز خان، ان کے بیٹے اور بھتیجوں کو سزائے موت دی گئی۔ سردار نوروز خان کو بوڑھے ہونے کی بناء پر زندہ چھوڑ دیا گیا۔ سندھ کے عظیم رہنما رسول بخش تالپور نے سزا پانے والے سرداروں کی میتیں بلوچستان بھجوانے کا انتظام کیا تھا مگر پھر جنرل ایوب خان کی حکومت عوامی تحریک کے نتیجے میں ختم ہوئی اور بلوچستان کو ایک صوبہ تو بنایا گیا مگر اس کے مسائل حل نہ ہوئے۔ بلوچستان کے شہری کہتے ہیں کہ گیس سب سے پہلے سوئی سے نکلی۔ یہ گیس ایک طرف کراچی اور دوسری طرف پشاور تک پہنچ گئی البتہ پورے بلوچستان میں آج تک گیس نہیں پہنچی۔

بلوچ قبائل ہزار سال سے بحیرئہ عرب پر آباد ہیں۔ بلوچ ماہی گیر تجارتی قافلوں کو صرف حجاز نہیں بلکہ افریقہ تک لے جاتے تھے مگر سمندر کی حفاظت کے لیے قائم ہونے والی ایجنسیوں میں بلوچ نہ ہونے کے برابر ہیں، اگرچہ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والے سی پیک کا منصوبہ چین سے گوادر تک پھیلا ہوا ہے ۔ بلوچستان سے نکالی جانے والی قیمتی معدنیات میں حکومتِ بلوچستان کا صرف ایک فیصد حصہ ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا حمد اللہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی حکومت موجودہ حالات کی بینیفشری ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ حالات بدستور کشیدہ رہیں۔

انھوں نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی، ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور محمود خان اچکزئی کی پختون ملی عوامی پارٹی ہی بلوچستان کے عوام کی حقیقی ترجمان ہیں، جنھیں گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت منتخب ہونے سے محروم کردیا گیا تھا۔ ان جماعتوں کو اگر موقع دیا جائے تو حالات کسی حد تک بہتر ہوسکتے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہر ایوب ملک کا کہنا ہے کہ خطے میں ہونے والی تبدیلیاں انتہائی اہم ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات کی کشیدگی، مکران کا خلیج سے قریب ہونا، امریکا کی ایران کے بارے میں پالیسی اور بھارت اور طالبان کی حکومت کے تعلقات کے اثرات بلوچستان پر پڑ رہے ہیں، اس صورتحال میں ایک نئی سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ 
 

Similar Posts